Mai thak gaya hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Farhan Ali Waris
آے فرس کی زین سے جب خاک پر حسین
مادر کا چہرہ دیکھ کے کرنے لگے یہ بین
اماں میں تھک گیا ہوں ماں
اپنی آغوش میں کچھ دیر سلالو اماں
میں تھک گیا ہوں یہ لاشے اٹھا کے اے اماں
اپنی آغوش میں کچھ دیر سلالو اماں
کتنے نیزے ہے محمد کے نواسے کے لئے
قتل سے پہلے زرا دے دلاسے کے لئے
اپنے مظلوم کو سینے سے لگا لو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
قتل عباس کا ہو جانا قضا تھی میری
برچی اکبر کو نہیں میرے کلیجے میں لگی
غم کی برچی میرے سینے سے نکالو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
اب میرے خون کا پیاسا ہے یہ جنگل سارا
کوئی اس دشت میں ناصر بھی نہیں ہے میرا
ہو سکے تو میرے غازی کو بلا لو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
حلق سوکھا ہے کلیجے میں دکھن ہوتی ہے
ریت زخموں میں جو جاتی ہے چبھن ہوتی ہے
اپنی چادر کو میرے زخموں پہ ڈالو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
دیکھ کے عون و محمد کو سر دشت بلا
دل یوں ٹکڑے ہوا جس طرح بدن کا سمکا
میرے اس ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
کوئی سر پر نہیں غم کس کو سناے مضطر
بعد میرے میری زینب کی چھنے گی چادر
میری زینب کو اجڑنے سے بچا لو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
یہ جو فرحان کے مظہر کے لبوں پر ہے بکا
کہہ رہے تھے دم ذبح یہ شہ کربوبلا
زیر خنجر ہوں نگاہوں کو ہٹالو اماں
میں تھک گیا ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.