Jab zainabe ghareeb ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Mustafa Hussain
جب زینب غریب کے رن میں پسر لڑے
تنہا لڑے یہ آہ وہ سب اہلِ شر لڑے
کس خوبصورتی سے علی کے جگر لڑے
اک شور پڑ گیا کے غضب شیر نر لڑے
ورثہ انہیں ملا ہے جناب امیر کا
یہ زور سب ہے شیر کی بیٹی کے شیر کا
زینب جو ننگے پاؤں کھڑی تھیں قریب در
عباس جا کے دیتے تھے یہ دم بدم خبر
روئے نہ اب حضور مہم ہو چکی ہے سر
لاکھوں سے لڑ رہے ہیں غضب آپ کے پسر
زور آج پھر دکھا دیا خیبر کشائی کا
اب تو انہیں کے ہاتھ ہے میداں لڑائی کا
آنسو بہا کے بنت علی نے دیکھا کہ آہ
دے اور ہمتیں انہیں خلاق انس و جاں
بچے کہاں ہزاروں کا وہ معرکہ کہاں
کچھ ہو انہیں فلک نے نہ ہونے دیا جواں
بیکس ہوں اور اس پہ مجھے اعتماد ہے
خالق وہ دے کہ جو میرے دل کی مراد ہے
بھیا کچھ اپنے بیٹوں کا مجھکو نہیں خیال
مر جائیں لڑکے یا کہ ہوں ٹاپوں سے پایمال
صدقے کروں ہزار جو ایسے ہوں نونہال
سب دولتیں لٹیں، پہ بچے فاطمہ کا لال
آئے بہن پہ وہ جو بلا ان پہ آئی ہو
دنیا میں کوئی ہو کہ نہ ہو میرا بھائی ہو
یہ ذکر تھا کہ بھائی کو حضرت نے دی صدا
عباس آؤ گھر گئے زینب کے دلربا
دوڑے صدا یہ سنتے ہی عباس با وفا
اثنائے راہ میں علی اکبر نے یہ کہا
زندہ رکھا فلک نے یہ آنسو بہانے کو
چلئے حضور جاتے ہیں لاشے اٹھانے کو
پیاری بہن کے بیٹوں کا دیکھا جو شہ نے حال
تن چاک چاک ہے گل صد برگ کی مثال
الجھے ہیں پیچ کھائے ہوئے گیسوؤں کے بال
اودے ہیں ہونٹ چاند سے چہرے لہو سے لال
ماتھے ہیں شق سروں سے عمامے بھی دور ہیں
سب چھوٹی چھوٹی پسلیاں تیغوں سے چور ہیں
چلائے گردنوں کے تلے ہاتھ دے کے شاہ
منہ سے ملاؤ منہ کہ میرا حال ہے تباہ
آنکھوں میں دم تھا بولتے کیوں کر وہ رشک ماہ
روتے تھے نبض دیکھ کے عباس عرش جاہ
دنیا سے کوچ کرتے تھے بچے پلے ہوئے
ہاتھوں میں تھے حسین کے منکے ڈھلے ہوئے
چلائے روکے حضرت عباس نامور
چھوٹا تمام ہو گیا یا شاہ بحروبر
حضرت پکارے ہاتھ کلیجے پہ مار کر
ہئے ہئے بڑا بھی مر گیا ویراں ہوا یہ گھر
ماں منتظر ہے چاک گریباں کئے ہوئے
کس منہ سے جاؤں خیمے میں لاشے لیئے ہوئے
کچھ کچھ ابھی تھا دم کہ انہیں لے چلے امام
اک لاش کو تو آپ لئیے تھے شہ انام
اور ایک لاش حضرت عباس نیک نام
خیمہ تھا سامنے کہ بضاعت ہوئی تمام
جیتے نہ پہنچے ہائے غضب خیمہ گاہ میں
دونوں صغیر مر گئے اثنائے راہ میں
زینب کے دل کو ہو گئی واں خود بہ خود خبر
جا بیٹھی آپ ماتمی صف پر جھکا کے سر
لائے حسین دونوں کے لاشے لہو میں تر
فرمایا ہائے لٹ گیا بیکس بہن کا گھر
دو خنجر ایک بار کلیجے پہ چل گئے
آئے تھے تم سے ملنے کو پر دم نکل گئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.