Mai rahoo ya na rahoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
میں رہوں یا نہ رہوں
میرا اسلام رہے گا
میرا پیغام رہے گا
اے فوجِ اشقیائ میرا اسلام رہے گا
قرآن رہے گا میرا پیغام رہے گا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
جب ظہر تک حسین بہتر کو رو چکے
اکبر کو رو چکے علی اصغر کو رو چکے
اک دوپہر میں با وفا لشکر کو رو چکے
پھر فوجِ بدنصیب سے مخاطب ہوئے امام
حجت تمام کرتا ہوں سُن لو میرا پیام
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
فرماتے تھے حسین کے میں بے قصور ہوں
روشن ہے تم پہ چشمِ پیامبر کا نور ہوں
فاقوں سے میں نڈھال ہوں
زخموں پہ زخم پیاس کی شدت میں کھائوں گا
لیکن میں نانا جان سے وعدہ نبھائوں گا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
دریا کو تم نے چھین لیا میں نے کچھ کہا
پانی دیکھا دیکھا کے پیا میں نے کچھ کہا
داغ اکبرِجواں کا دیا میں نے کچھ کہا
حق پر ہوں میرے حق میں سناں بول رہی ہے
سُن لو وہ اذاں میری زباں بول رہی ہے
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
مقصد ہے لاالہ کی بقا اور کچھ نہیں
وعدہ ہو زیرِتیغ وفا اور کچھ نہیں
اس کے سوا لبو ںپہ دُعا اور کچھ نہیں
راضی ہو مجھ سے میرا خدا چاہتاہوں میں
میںہوں حسین سب کا بھلا چاہتا ہوںمیں
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
مقصد نہیں ہے جنگ ہمارا خدا گواہ
خط بھیج کے ہے تم نے بلایا خدا گواہ
بے جرم تم نے مجھ کو ستایا خدا گواہ
خنجر تلے بلند میں تکبیر کروں گا
اپنے لہو سے خاک پہ تحریر کروں گا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
میں اور کروں یزید کی بیعت نہیں نہیں
بدلوں اجل کے ڈرسے شریعت نہیں نہیں
جینے کے بدلے چھوڑوں شہادت نہیں نہیں
تم کون ہو نقاب رُخوں سے ہٹائوں گا
میں کون ہوں یہ نوکِ سناں پر بتائوں گا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
آکر درِ خیام پہ زینب کو دی صدا
آ اے میری غریب بہن آ قریب آ
لے آخری سلام حسینِ غریب کا
مقصد ہے میرا کیا یہ سبق تجھ کو یاد ہے
میری شریکِ کار مجھے اعتماد ہے
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
زینب تڑپ کے بولی کہ بھیا سمجھ گئی
بھیا تیرے اشارے کو بہنا سمجھ گئی
میں کیا تیری غریب سکینہ سمجھ گئی
خطبوں سے میں ہلائوں گی قصرِ یزید کو
مرنے نہ دوں گی اب میں کسی بھی شہید کو
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
اُٹھا غبارِ ظلم کھڑکتی ہیں بجلیاں
ذیں سے گرے حسین اُٹھی سرخ آندھیاں
ناگاہ سر حسین کا آیا سرِ سناں
قرآں سنا کے سیدِ مظلوم نے کہا
لو نانا جان وعدہ وفا میں نے کر دیا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
اے سرور و ریحان یہ لمحہ عجیب ہے
نیزے پہ لب کشائ یہ حسینِ غریب ہے
زینب تمہاری شامِ غریباں قریب ہے
سب کچھ تیرے حوالے ہے اب تم سنبھالنا
اپنا خیال رکھنا سکینہ کو پالنا
میں رہوں یا نہ رہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.