Kis jurm par maara
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Riaz Ali
بی آیےء زمبن قتیلت
کس جرم پر مارا اسے اے ضبط گاہ نینوا
توحید بھی خطرے میں تھی اسلام بھی خطرے میں تھا
قرآن بھی مجبور تھا جب دین ہی خطرے میں تھا
شاہی کے آگے ڈٹ گیا کیونکہ امام وقت تھا
کس جرم پر مارا۔۔۔
یثرب سے تابہ ماریہ یوں تو بہت افراد تھے
لیکن شب عاشور لشکر میں بہتر رہ گئے
بیعت بہانا بن گیء در اصل سر درکار تھا
کس جرم پر مارا۔۔۔
آی صحر عاشور کی تیروں حملہ ہو گیا
اور غلبہء اول میں بس تھوڑا سا لشکر ہی بچا
اصحاب کچھ باقی بچے اور کچھ آ عزا اقربا
کس جرم پر مار۔۔۔
شہ نے تقبل کہکے پھر اکبر کو دیکھا یاس سے
اکبر کا چہرہ کھل اٹھا اس اذن کے احساس سے
میدان میں جا کر یوں لڑا سینے میں نیزہ گڑ گیا
کس جرم پر مارا۔۔۔
پانی پلانے لاے تھے آغوش میں لے کر جسے
رن میں بجھای تشنگی ظالم نے آب تیر سے
پھر اسکا خون چلو میں لے کر شہ نے چہرے پر ملا
کس جرم پر مارا۔۔۔
لشکر تھا جسکے ہاتھ میں اہل حرم کی آس تھا
شبیر کی ڈھارس اکیلا صرف اک عباس تھا
بے دست ہو کر نہر پر بے آس ہوکر سوگیا
کس جرم پر مارا۔۔۔
سرور کے نفس مطمئن اتمام حجت ہو چکی
مردوں میں بس عابد بچے سب کی شہادت ہو چکی
رہ جائے نام اللہ کا کہہ کر ادا سجدہ کیا
کس جرم پر مارا۔۔۔
شاہد زمین لرزاں رہی خوں آسمانوں سے بہا
منہ پر سجا کر شہ کا خوں رہوار خیمے کو چلا
سر سے رداءیں چھن رہی تھی حشر تھا ہر سو بپا
کس جرم پر مارا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.