Jisne jaise chaha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Farhan Ali Waris
عصر کا وقت ہے شبیر ہے تنہائی ہے
ایک ماں دشتِ مصیبت میں چلی آی ہے
دیکھ کر ماں کو یہ شبیر بکا کرنے لگے
اماں میرا یہ بدن دیکھو ہے پارہ پارہ
جس نے جیسے چاہا اس نے ویسے مارا
کوی کہتا تھا کہ تلوار سے مارو اس کو
کوئی کہتا تھا کہ گھوڑے سے گراو اس کو
کوئی نیزہ لیےء آیا ہے تو کوئی بھالا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
پاس آ آ کے میرے تیر ہے اتنے مارے
توڑ کر میرا بدن پشت سے باہر نکلے
اب بھی تیروں پہ معلق ہے تیرا شہزادہ
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
پسلیاں ٹوٹی تو ماں میں نے تجھے یاد کیا
ضرب جو سر پہ لگی کہتا تھا بابا بابا
کتنے سنگ دل ہیں یہ سب رحم نہ مجھ پر کھایا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
چکیاں پیس کے اماں جسے پالا تم نے
ننگے پاؤں جسے گھر سے نہ نکالا تم نے
ہو گیا اماں بدن آج وہ زخمی سارا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
تیغ برچھی و سناں ظلم کے خنجر مارے
جس کو کچھ بھی نہ ملا اس نے بھی پتھر مارے
جس کے جو ہاتھ لگا ظلم اسی سے ڈھایا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
اماں جس وقت تلک غازی میرا زندہ تھا
ایک بھی زخم میرے جسم پہ آنے نہ دیا
بعد عباس کے یہ حال ہوا ہے میرا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
اماں رومال کوی مجھکو بھی دیدو اپنا
حرم کی طرح سے لہو میرا بھی رک جائے گا
اتنا زخمی ہے بدن خوں نہیں رکتا میرا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
مجھ سے پہلے یہ ستم ماں میرے اکبر پہ ہوا
جس گھڑی لال میرا زیں سے زمیں پر آیا
لاش پر پہنچا جو اکبر کی تو میں نے دیکھا
اب تو ہر سمت ہے یہ اہلِ جفا اور میں ہوں
شمر کی کند چھری سوکھا گلا اور میں ہوں
اماں شبیر تیرا اب نہیں بچنے والا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
ہاے فرحان علی کیسی گھڑی تھی وہ بھی
جس گھڑی ضلع رضا کند چھری شہ پہ چلی
نوحہ کرتا ہی رہا پیارے نبی کا پیارا
جس نے جیسے چاہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.