Jab daaghe bekasi na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Alamdar Razvi
جب داغ بے کسی نہ سکینہ اٹھا سکی
اور درد دل نہ خوف کے مارے سنا سکی
کھاے طمانچے شمر کے جب تک کہ کھا سکی
سن کم تھا دکھ بہت تھے نہ برداشت لا سکی
روی تو ظالموں نے جفا بے شمار کی
آخر یہ جبر دیکھ کے موت اختیار کی
گر آہ کی تو شمر پکارا خموش ہو
اور چپ ہوی تو بے پدری نے کہا کے رو
گہہ شدت عطش سے پکاری کہ پانی دو
گہہ یاد کرکے رہ گیء بابا کی پیاس کو
سوی تو آنسوں پونچھ کے چشم پرآب سے
ہاے ہاے حسین کہہ کے پھر اٹھ بیٹھی خواب سے
دل میں سما گیا تھا جو شمر لعیں کا ڈر
سونے میں کانپ کانپ یہ کہتی تھی رات بھر
فریاد چھینتا ہے گوہر شمر بد گوہر
آتا ہے ابن سعد چھپوں جاکے میں کدھر
زینب پھپھی سنبھالو کلیجہ دھڑکتا ہے
سجاد بھای دیکھو یہ خولی گھرکتا ہے
جب پیاس لگتی رو کے چچا کو پکارتی
دکھتے جو کان شاہ ہدا کو پکارتی
آتا نہ جب کوئی تو خدا کو پکارتی
جینے سے تنگ ہوکے قضا کو پکارتی
کہتی تھی نے چچا نہ امام امم رہے
رلوانے کو عدو رہے رونے کو ہم رہے
چپ تھی تو چپ تھی بولتی جو تھی ڈری ہوی
واں شمر آیا رن میں ادھر تھر تھری ہوی
تھی آہ بات بات پر لب پر دھری ہوی
گردن کی ریسمان لہو سے بھری ہوی
دم رکنے لگتا تھا تو رسن کھول دیتے ہیں
باہر جو شمر بولتا تو باندھ لیتے ہیں
حال شب وفات سکینہ ہے یادگار
گویا کہ اپنی مرگ تھی بے کس پہ آشکار
ملتی تھی شام سے وہ گلے سب کے بار بار
ماں کی بلایں لیتی تھیوہ ماں کی غم گسار
تسلیم کو پھپھی کی کبھی سر جھکاتی تھی
تھی بے خطا پہ سب سے خطا بخشواتی تھی
زنداں سے کہتی تھی یہ کبھی وہ اسیر غم
ہو جاے گا کل ایک تیرا مہمان کم
میت کسی کی ننھی سی نکلے گی صبح دم
بانو سے یہ خطاب کبھی تھا بہ چشمِ نم
اک تازہ موت ہوگی نبی کے گھرانے میں
اماں لٹو گی آج کی شب قید خانے میں
بانو پکاری لٹ تو چکی اب لٹوں گی کیا
بی بی نہ نام لٹنے کا لو تم پہ میں فدا
گوہر چھنے طمانچے لگے کان شق ہوا
لٹنے سے میری بی بی کا پر دل نہیں بھرا
زینب کی پشت نوک سناں سے فگار ہے
پر میری پیاری لٹنے کی امیدوار ہے
اب کیا لٹوں گی مال نہیں زر نہیں رہا
اکبر نہیں رہا علی اصغر نہیں رہا
رہنے کو قید خانہ ملا گھر نہیں رہا
ہاتھوں میں ریسماں بندھی زیور نہیں رہا
دولت ہے کونسی جسے زنداں میں کھووء نگی
رونا تھا جس کو رو چکی اب کس کو روؤ نگی
کبرا ہے اور تم ہو یہ سجاد ناتواں
گر یہ بچے تو نام ہے ورنہ ہو بے نشاں
وہ بولی اب رہیں گے سلامت پہ ہم کہاں
ماں نے کہا خدا نہ کرے اے سکینہ جاں
کی عرض دیکھلوں گی جو پچھلی کو ہوے گا
بابا کی رونے والی کو سب کنبہ روے گا
اب موت میری سب کو مبارک کرے خدا
مرتے ہی میرے قید سے سب کنبہ ہو رہا
جاتا رہے بخار برادر کا بے دوا
جنت کو ہم روانہ ہوں مدینے کو اقربا
غل ہو سکینہ لیکے بلا سب کی مر گیء
حیدر کی پوتی مشکلیں آسان کر گیء
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.