Zindan may muqayyad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Alamdar Razvi
زنداں میں مقید ہوے جس دم حرم شاہ
انبوہوے خالق ہوا دروازے پہ ناگاہ
بلوہ ہوا اس درجہ کہ مسدود ہوی راہ
سر شرم سے زنجیر پہ عابد نے رکھا آہ
تھا وہ عرق شرم اسیروں کے نہ تن میں
روتا تھا ہر ایک عضو غمِ شاہ زمن میں
مشغول جو تھے کھیل میں اطفال وہ سارے
کرتی تھی سکینہ وہاں حسرت سے نظارے
کہتی تھی کہ کیا ہو گےء ہمجولی ہمارے
بابا علی اصغر کو کہاں لے کے سدھارے
سب بچے یہاں کھیلتے ہیں خندہ زناں ہے
میں کھیلتی تھی جس سے وہ اطفال کہاں ہے
ناگاہ نمودار ہوی شام غریباں
آیا غضب آلود وہاں شمر بد ایمان
اک اک سے مخاطب ہوا وہ دشمن یزداں
اب جاؤ کہ ہوتا ہے مخالف در زنداں
ہوے گی رہائی نہ کبھی آل عبا کی
کل دیکھیو پھر سیر اسیرانِ بلا کی
یہ سن کے پریشان ہوا انبوہ وہ سارا
گم ہو گیا اک شخص کا فرزند خضارا
چلایا پدر اس کا رہا دل پہ نہ یارا
فرزند بھی بابا اسے کہہ کہہ کے پکارا
وہ طفل لپٹنے جو لگا آ کے پدر سے
پیدا ہوی اک آہ سکینہ کہ جگر سے
بھر بھر کے دم سرد یہ کے بانو سے گفتار
اس بچے کو دیکھو کو کہ کیا خوش ہے یہ دلدار
کیا نام پدر پیار سے لیتا ہے یہ ہر بار
اک ہم ہے کہ ہے باپ کی فرقت میں گرفتار
دل میں جو میرے درد ہے خالق پہ عیاں ہے
میں کس کو کہوں باپ میرا باپ کہاں ہے
بابا میرے ہوتے تو انہیں کہتی میں بابا
اب باپ کہاں جس کو کہوں باپ میں دکھیا
یوں کوئی پدر بیٹی سے غافل نہیں ہوتا
حیران ہوں بابا کہ وہ اشفاق ہوے کیا
اعدا نے ہمیں قید کیا شام میں لا کر
بابا میرے کیوں کر مجھکو نہیں ڈھونڈتے آ کر
یہ کہہ کے سکینہ پہ جو رقت ہوی طاری
بس ہاے پدر کہہ کے کیء بار پکاری
تڑپی جو زمیں پر تو زمیں ہل گیء ساری
جھنجھلا کہ کہا شمر نے پھر کرتی ہو زاری
اب خوب رلاؤں گا تجھے میں نہ ڈروں گی
رہ تجھکو اسیروں سے جدا قید کروں گی
پھر شمر نے بازوے سکینہ کو جو پکڑا
کنبے کی طرف اس نے عجب یاس سے دیکھا
سب قیدیوں میں ایک قیامت ہوی برپا
سجاد کے قدموں پر مچل کر گری دکھیا
یوں لپٹی تھی بھای سے وہ اس خوف و خطر سے
اک ہاتھ تو گردن میں تھا اک ہاتھ کمر میں
منہ دیکھ کے سجاد کا کہتی تھی وہ ڈر کر
اب آپ میرے رونے کے ضامن ہو برادر
گر تم سے چھٹی زیست میری ہوے گی کیوں کر
اب روؤں تو جو چاہے کرے شمر ستمگر
بھیا مجھے تو شمر سے اس وقت بچالے
اب روؤں تو کر دیجیو ظالم کے حوالے
اب روی سو میں روی نہ پھر روؤں گی زنہار
اب روؤں اگر باپ کو اپنے تو گنہگار
فرماؤ کہ اب چھوڑ دے مجھکو یہ جفا کار
بازو میرا دکھنے لگا اے عابد بیمار
کس طرح جدا کنبے سے ہوے گی سکینہ
تم کہہ دو قسم کھا کے نہ روے گی سکینہ
یہ کہتی تھی کھینچا جو ستمگر نے خضارا
کرتہ تو پھٹا تھا وہ پھٹا اور بھی سارا
تب عابد بیمار نے روکر یہ پکارا
اے شمر یہ بن باپ کی بچی ہے خدارا
غافل تیری دہشت سے نہ ہوے گی سکینہ
اب ایسا ڈری ہے کہ نہ روے گی سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.