Hussain janam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Aqif Hussain
حسین جانم حسین جانم
مقتل میں کھلے سر یہی کہتی رہی مادر
حسین جانم حسین جانم
پیاسے گلے پہ چلا ہاے ظلم کا خنجر
حسین جانم۔۔۔
صحراے کربلا میں ہوا زہرا کا نزول
بیٹی کے ساتھ روتے ہوئے آگےء رسول
زہرا کا بازو تھامے ہوئے روتے ہیں حیدر
حسین جانم۔۔۔
دیکھو نہ علمدار رہا اور نہ لشکر
نہ عون و محمد رہے نہ قاسم و اکبر
لڑتے ہوئے لاکھوں سے نظر آے جو سرور
حسین جانم۔۔۔
لڑتے ہوئے شبیر نے جس دم سنی صدا
اے نفس مطمئن آ پلٹ کہتا تھا خدا
سجدے میں رکھا شاہ نے سر خاک کے اوپر
حسین جانم۔۔۔
خنجر کو لیے ہاتھوں میں وہ شمر چلا ہے
پیاسے گلے پہ شاہ کے خنجر کو رکھا ہے
یہ دیکھ کے روتی رہی شبیر کی مادر
حسین جانم۔۔۔
کہتے تھے کہ اے شمر یہ احمد کا پسر ہے
اور پیاس کی شدت سے جلا اس کا جگر ہے
پانی اسے پلادو دعا دینگے پیمبر
حسین جانم۔۔۔
سر کھولے ہوئے فاطمہ کرتی رہی فریاد
سر کاٹ کے ہاتھوں میں اٹھا لے گےء جلاد
زینب نے در خیمہ سے دیکھا تھا وہ منظر
حسین جانم۔۔۔
خوں آسماں سے برسا ادھر کربوبلا میں
اور فاتحہ کی نوبت بجی واں اہل جفا میں
سجاد سے کہتی تھی اٹھو عابد مضطر
حسین جانم۔۔۔
سجاد نے تب چونک کے سر اپنا اٹھایا
سر حضرت شبیر کا واں نیزے پہ پایا
کہتے تھے سلام آپ پہ اے زہرا کے دلبر
حسین جانم۔۔۔
فرماتی تھی زہرا کے میرے یوسف ثانی
پیاسے ہی گےء دنیا سے پایا نہیں پانی
اب خلد میں نانا تیرے دیں گے تجھے کوثر
حسین جانم۔۔۔
زہرا سے یہ فرمانے لگے احمد مختار
دے صبر تجھے فاطمہ اب خالق غفار
ذبح عظیم بن گیا ہے اب میرا سرور
حسین جانم۔۔۔
فرماتے تھے یہ زہرا سے رو رو کے مرتظی
ظالم نے میرے بچے کو مارا ہے بے خطا
شبیر کے لاشے پہ یہی کہتے تھے حیدر
حسین جانم۔۔۔
یہ سب غلام آپ کے ہیں حضرت شبیر
اعجاز و عاکف کی بڑھی اس لیئے توقیر
روتے ہوئے کہتے ہیں جو آکر سر ممبر
حسین جانم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.