Hussain ibne mohamed
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Shahid Baltistani
آؤ آؤ عاشقانِ مصطفیٰ یہ ماہ عزا ہے
اس زمیں تا عرش بریں چاروں طرف
جو غم کی فضاء ہے یہ ماہ عزا ہے
آرزوے کبریا ہے ماتم حسین
بخششوں کا راستہ ہے ماتم حسین
وہ نظام مصطفیٰ ہے ماتم حسین
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
کوی نہیں کوئی نہیں لاڈلا ایسا
جس کے لئے رب نے ہو قانون کو بدلہ
سارے صحیفوں میں کتابوں میں لکھا ہے
چکنا کسی مٹی کو جایز نہیں واللہ
مگر حسین تیرا جہاں پہ خون گرا
کیا خدا نے اسے خاک شفا
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
روز اذل بول چکا خالق اکبر
خلد کی شےء خلد سے جاتی نہیں باہر
کالا لباس اس کے لیےء پہنا ہے ہم نے
جس کا لباس آیا تھا جنت سے زمین پر
یہ ہم سے مت پوچھو ہمیں نہیں ٹوکو
ہے دم تو بدلو غلاف کعبہ
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
ہمارے عشق کی مثال کربلا
ہمارا مرکزی خیال یا حسین
پہلی دفع گود میں جب تجھکو اٹھایا
خود کو محمد نے عزادار بنایا
ہاے نانا کے اشکوں کو بھلایا نہیں تو نے
ہاں دین محمد تھا مگر تو نے بچایا
اے عاشقانِ نبی عزا میں آنسوں ابھی
بہاؤ کر لو محمد سے وفا
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
آقا محمد کے گھرانے کا یہ غم ہے
مجلس شبیر میں آنا یہ کرم ہے
اور یہ جو بڑی شان سے گھر گھر پہ لگا ہے
آل محمد کی نشانی یہ علم ہے
علم اٹھاتے رہو یہ غم مناتے رہو
علی و فاطمہ سے لے لو دعا
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
ہمارے عشق کی مثال کربلا
ہمارا مرکزی خیال یا حسین
انا مجنون الحسین
انا مجنون الحسین
تیرے ہی ماتم میں فنا ہے میری ہستی
کربوبلا ہی تو فقیروں کی ہے بستی
کیسے سمجھ پاے ملنگوں کو زمانہ
عقل سے بھلا ہے تیرے عشق کی مستی
اے سقی ابنِ سقی تو بناتا ہے ولی
ہے یہ شاہباز قلندر کی صدا
علی و فاطمہ کا لال ہے یہ
خدا کا لاڈلا حسین
حسین حسین حسین ابنِ محمد
صل اللّٰہ علیہ وآلہ
اس کا لہو میرا لہو ہے
اس کا بدن میرا بدن ہے
اس کی آنکھیں میری آنکھیں
اس کا چلن میرا چلن ہے
یہ قول نبی ہے
کیا کہے زیشان و درویش عزا
افسوس یہی ہے
جو محمد نے کہا لوگوں نے وہ جھٹلایا
ہاے مہماں اسے کربوبلا بلوایا
اس کو پانی نہ دیا اس کا گھر لوٹ لیا
زخمی نیزے سے کیا سینہ علی اکبر کا
تیر سے چھید دیا ننھا گلا اصغر کا
اس قاسم نہ رہا اس کا غازی نہ رہا
مر گےء عون و محمد کوئی یاور نہ بچا
رہ گیا دشت میں تنہا وہ غریب زہرا
واویلا واویلا واویلا واویلا
واویلا حسین حسین
واویلا حسین حسین
مرتجس سوار اکیلا چلا حسین
تیر و تبر گرز سے زخمی ہوا حسین
اتنے ستم پر بھی سنبھلتا رہا حسین
مار کے نیزوں سے گرایا گیا حسین
واویلا واویلا واویلا واویلا
شمر لعیں شاہ کے جب سینے پہ آیا
کھینچ کے بالوں سے طمانچہ بھی لگایا
ہاتھ رکھا ماں نے بہت بار بچایا
ہاے مگر کٹ گیا سر بچ نہیں پایا
شمر چلا بالوں سے جب سر کو اٹھا کر
فاطمہ زہرا نے کہا خاک اڑا کر
واویلا حسین حسین
واویلا حسین حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.