Bilqees pasban hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Fateh Ali Afsar
بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے
مریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہے
شان خدا ہے یہ کس کی جناب ہے
دہلیز آسماں ہے یہ کس کی جناب ہے
کرسی زمیں سے لیتی ہے گوش پناہ کے
بیٹھا ہے عرش ساے میں کس بارگاہ کے
الفت خدا کے بعد حبیب خدا کی ہے
مصنف کے پاس یہ بھی ولا کبریا کی ہے
پرواہ فاقہ کی نہ شکایت غزا کی ہے
ایذا فقط جدائیء خیرالوریٰ کی ہے
آب و غزا کی فکر نہ سونے کا دھیان ہے
آنکھوں میں شکل باپ کی رونے کا دھیان ہے
بیٹے پکارتے ہیں کہ للہ باہر آؤ
اماں نہ اتنا روؤ غلاموں پہ رحم کھاؤ
نانا کہاں گئے ہیں بلا لایں ہم بتاؤ
ہم کپڑے پھاڑتے ہیں نہیں تو گلے لگاؤ
نانا کے بعد ہاے یہ بے قدر ہم ہوے
سب ایک طرف حضور کے بھی پیار کم ہوے
آخر وفور گریہ سے عاجز ہوے عرب
حیدر کے پاس رونے کی فریاد لاے سب
کی عرض فاطمہ سے کہو اے ولیء رب
یا سیدہ تمہاری رعیت ہے جاں بلب
کھانے کا کوئی وقت نہ سونے کا وقت ہے
جو وقت ہے وہ آپکے رونے کا وقت ہے
باہر سے مرتظی گےء گھر میں جھکائے سر
منہ ڈھانپے رو رہی تھی اکیلی وہ خوش سیر
دینے لگے پیام عرب شاہ بحروبر
گھبرا کے بولی ہاے کروں کیا میں بے پدر
خابو میں موت ہوے تو مر جاؤں یا علی
بابا کا سوگ لے کے کدھر جاؤں یا علی
میری طرف سے اہل مدینہ کو دے پیام
لوگوں خفا نہ ہو میری رخصت ہے صبح شام
دو چار دن تمہارے محلے میں ہے مقام
رونے کی دھوم ہو چکی اب کام ہے تمام
گھبراتی ہوں وطن میں سفر کے مہینے سے
بابا سدھارے کام مجھے کیا مدینے سے
اک دن نگاہ کرتے ہیں کیا شاہ لافتی
مطبخ ہے گرم آرد جو ہے گندھا ہوا
نہلا رہی ہے بچوں کو مل مل کے دست و پا
پھیلا دیے ہیں کرتے بھی دھوکر جدا جدا
پوچھا کہ اتنے کاموں کا جو شغل آج ہے
اس وقت کچھ بحال تمہارا مزاج ہے
بولی کہ آج رات کو ہو جاؤں گی بحال
کل میرے کاروبار میں تم ہونگے قد نڈھال
خدمت کا میرے بچوں کی ہوگا کسے خیال
نہلا دھلا دیا کہ پریشاں تھا ان کا حال
کرتے بھی دھوے قوت بھی کل تک کا دے چلی
سہرا نہ دیکھا ایک یہ ارمان لے چلی
پھر تو ہر ایک محلے میں محشر بپا ہوا
اپنے پرائے دوڑے کہ ہے ہے یہ کیا ہوا
فضہ پکاری سیدہ کا واقعہ ہوا
ہجرہ بتول پاک کا ماتم سرا ہوا
چھاتی خلق سے دیکھنے والوں کی پھٹ گیء
منہ رکھ کے منہ پہ مردے کہ زینب لپٹ گئی
میں دودھ بخشوانے نہ پای کہ چل بسی
شربت بنا کے لانے نہ پای کہ چل بسی
کچھ حال دل سنانے نہ پای کہ چل بسی
میں بے نصیب آنے نہ پای کہ چل بسی
کیا جلد تر زمانہ ہوا انتقال کا
ہے ہے ابھی تو سن تھا کل اٹھارہ سال کا
اے میری فاقہ کش میری نادار اماں جاں
اے میری بے دوا میری بیمار اماں جاں
کعبے کی آبرو میری سردار اماں جاں
اے میری صابرہ میری ناچار اماں جاں
نانا موی تو تھی کوئی تازہ خطاب دو
اماں جواب دو میری اماں جواب دو
ننھے سے سر کھلے ہیں نہیں سر پہ ٹوپیاں
کہتے ہیں کچھ تو منہ سے نکلتا ہے ہاے ماں
لکھا ہے جب جنازہ پہ پہنچے وہ نیم جاں
حسرت سے دیکھا مردے کا منہ اور یہ کی فغاں
اماں غلام آے ہیں رخصت کے واسطے
جاتی ہو نبی کی زیارت کے واسطے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.