Garm reti pa mai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
عصر کا وقت ہے شبیر کی آتی ہے صدا
چور زخموں سے بدن ہوگیا اماں میرا
اپنی آغوش میں اب مجھ کو چھپالو اماں
ارے دھوپ ہے اپنی عبا آن کے ڈالو اماں
گرم ریتی پہ میں گِرتا ہوں سنبھالو اماں
تھک گیا لاش اُٹھا کر میں بھرے لشکر کی
لاش قاسم کی میں لایا ہوں کبھی اکبر کی
خود بنائی ہے لحد میں نے علی اصغر کی
دو تصلّی مجھے سینے سے لگا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
تیر تلوار سے خنجر سے بدن زخمی ہے
خاک جلتی ہے تو زخموں میں چبھن ہوتی ہے
میرے زخموں سے میرے دل کا لہو جاری ہے
اپنی چادر کو میرے زخموں پہ ڈالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
میرا عباس خفا ہوگیا اماں مجھ سے
وہ نہیں آیا اُٹھا لایا تھا بازو اُس کے
آپ اک کام کریں نہر کنارے جاکے
میرے رُوٹھے ہوئے بھائی کو منالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
چکیّاں پیسی ہیں گودی میں بیٹھا کر مجھ کو
جاگتی ررہتی تھیں زانوں پہ سُلا کر مجھ کو
لوریّاں دیتی تھیں جھولے میں جھلا کر مجھ کو
اک دفا گود میں پھر اپنی سُلا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
اور کچھ دیر کا مہمان ہوں تم پاس رہو
ریت زخموں میں ہے آنچل سے اُسے صاف کرو
آتی ہے رونے کی آوازِ سکینہ دیکھو
جائو تم جا کے سکینہ کو سنبھالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
دیکھو وہ آگ لگی شامِ غریباں آئی
دیکھو گھبرا کے نکل آئی میری ماں جائی
دیکھو بے ہوش سکینہ کا پڑا ہے بھائی
جائو سجاد کو شعلوں سے نکالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
ہے گزارش میری تم سے تو اب اتنی مادر
اماں بابا کی قسم ڈھانپ لو منہ پر چادر
دیکھا جائے گا نہ اب تم سے یہ خونی منظر
قتل ہوتا ہوں نگاہوں کو ہٹالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
ہوگی جب حشر کے میدان میں مجلس برپا
فرشِ غم شہہ کا بچھائیں گی جنابِ زہرا
آئے گی حضرتِ شبیر کی ریحان صدا
آج جی کھول کے تم اشک بہا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.