Jab daakhile behasht
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Naseemul Hasan
جب داخل بہشت رسولِ خدا ہوے
یعنی جہاں سے راہیء ملک بقا ہوے
محزوں وہ دل ملول شاہ لافتی ہوے
سبطین غم میں نانا کے صرف بکا ہوے
صدمہ ہر ایک کو تھا جناب رسول کا
پر حال غیر سب سے سوا تھا بتول کا
گاہے علی سے کہتی تھی روکر وہ درد ناک
والی نبی کو تم نے سلایا بہ زیر خاک
کیونکر چھپایا قبر میں تم نے وہ روے پاک
ہے ہے پدر ہلاک ہو بیٹی نہ ہو ہلاک
اتنا تو کہتے پایینتی کس کو سلاؤ گے
پوچھا تو ہوتا فاطمہ کو کب بلاؤ گے
بھولا تھا اس خلق میں حسین و حسن کا پیار
اور پیار تھا تو یہ تھا کہ کہتی تھی بار بار
کاندھے پہ اپنے نانا کے ہوتے نہیں سوار
اب گیسوئے نبی کو بناتے نہیں مہار
بیٹے تو ماں سے کہتے تھے نانا کدھر گےء
ماں پوچھتی تھی بیٹوں سے بابا کدھر گےء
بستر سے تھر تھرا کے اٹھی تھام کر عصا
قبر نبی پہ فاتحہء آخری پڑھا
ہمساییوں کے گھر گیء رخصت کو اور کہا
لو صاحبو بہل کرو اب کوچ ہے میرا
ایذا تھی تم سبھوں کو میرے شور و شین سے
کل فاطمہ نہ ہوے گی تم سونا چین سے
ہم سایہ کے حقوق سے آگاہ ہے جہاں
لوگوں میرے یتیموں سے رہنا نگاہ باں
اب ساتھ ان کا اور تمہارا ہے ہم کہاں
بن ماں کی ہوتی ہیں میری دکھیاری بیٹیاں
بچپن پہ اپنے بچوں کے آنسوں بہاتی ہوں
تم پر حسن حسین کو میں چھوڑے جاتی ہوں
روکر کبھی حسن کو گلے سے لگالیا
آغوش میں حسین کو گاہے بٹھا لیا
رخصت کیا کسی کو کسی کو بلا لیا
پڑھنے کے واسطے کبھی قرآں اٹھا لیا
کہتی تھی گاہ بچوں سے منہ اپنا موڑ کے
کل سونے گھر میں سونا ہے بستی کو چھوڑ کے
سن لو وصیتیں میری اس وقت یا امام
فضہ سے میرے بعد عدالت سے لینا کام
ہوشیار فاطمہ کی امانت سے صبح و شام
دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں اور بس خدا کا نام
میں نے بڑے دکھوں سے یہ سب بچے پالے ہیں
حق کے حوالے تم یہ تمہارے حوالے ہیں
سب ہاشمی قسم میری عصمت کی کھاتے ہیں
مجھکو عرب کی رسم سے اندیشے آتے ہیں
عورت کا مردہ تختے پہ رکھ کر اٹھاتے ہیں
آثار اس میں مردے کے سب پاے جاتے ہیں
دیتی ہوں میں قسم تمہیں روح رسول کی
والی نہ یوں اٹھاییو میت بتول کی
ہے آرزو کہ قبر میں مجھکو حسن لٹاے
شبیر میرے مردے کا منہ قبلے کو پھراے
پھر قد کہا نہیں نہیں بچہ ہے ڈر نہ جاے
ناگاہ کھیلتے ہوے دونوں یتیم آے
چھاتی لگا کے بولی کہ لو ہم تو مرتے ہیں
تم سے سلوک دیکھےء کیا لوگ کرتے ہیں
لیکر بلایں بیٹی کی زہرا نے یہ کہا
روتی تو ہوں ذیادہ نہ زینب مجھے رلا
کچھ بھاییوں کے سونپنے کا سمجھی مد دعا
تو ان کی رونے والی ہے زہرا تیرے فدا
کیا بس میرا جو مرضیء پروردگار ہے
زینب تمام کنبے کی تو سوگوار ہے
یہ کہتی تھی کہ غش نے دیا موت کا پیام
حجرے سے نکلے روتے ہوئے اقرباء تمام
ترتیب نعش کے لئے باہر گےء امام
زہرا نے یاں مصلے پہ اپنا کیا مقام
لکھا ہے بس نماز عشاء کی ادا ہوی
اور غل اٹھا کہ بنت نبی کی قضا ہوے
ماتھا حسن نے مردے کے ماتھے پہ رکھ دیا
رو رو کے اماں اماں کہا اور غش ہوا
تلوؤں سے اپنے ماتھے کو شبیر نے ملا
پاؤں میں دم نہ پایا تو یہ کان میں کہا
میں آپکا غلام ہوں اور نور عین ہوں
آواز دو حسین ہوں اماں حسین ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.