Bas ya hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
اے حر کسے ملی یہ شہادت کی زیب و زین
بالیں پہ تیرے آی ہے خود مادر حسین
اس مرتبے کے بعد تو سب تجھ کو مل گیا
اے حر حسین مل گےء رب تجھکو مل گیا
کچھ نہیں ملا اسے تو نہیں ملا جسے
تو جس کو مل گیا رب اسکو مل گیا
بس یا حسین
یہ بس حسین کی عطا یہ بس حسین کا جگر
جو کہہ دیا وہ معتبر جو دے دیا تو سارا گھر
کرم حسین کا کرم کسی پہ ہو گیا اگر
ملے کسی کو بال و پر کسی کو مل گےء پسر
حر بنا دیا اسے جو ایک بار مل گیا
تو جسکو مل گیا۔۔۔
بس یا حسین۔۔۔
آدم کی پوری نسل پہ احسان کون تھا
جس پر خدا کو ناز وہ انسان کون تھا
کنبے کے ساتھ دین پہ قربان کون تھا
نوکِ سِناں پر قاریہ قرآن کون تھا
اے کربلا بتا تیرا مہمان کون تھا
بس یا حسین۔۔۔
بس حسین کا جسے یہ اختیار مل گیا
یہ اختیار کتنا وسیع و بلند ہے
سارا جہاں حسین کی مٹھی میں بند ہے
بدلہ ہے کربلا میں تقاضائے انقلاب
نیزے پہ اب جو سر ہے وہی سر بلند ہے
ایوانِ انبساط میں جنت نہ کر تلاش
یہ تو غمِ حسین کے آنسوں میں بند ہے
تو جسکو مل گیا۔۔۔
بس یا حسین۔۔۔
داستاں حسین کی سمجھ میں آ گیء اگر
تو حر کی رہگزار پر کرے گا عشق کا سفر
تڑپ تڑپ اٹھے گا تو کہے گا رات رات بھر
حسین بس حسین ہے سناں پہ یا زمین پر
شاہ کربلا سے جس کے دل کا تار مل گیا
تو جسکو مل گیا
بس یا حسین۔۔۔
اک دو پہر میں جس نے بھرا گھر لٹا دیا
نازاں خدا ہے جس پہ وہ سجدہ ادا کیا
اپنے لہو سے خاک کو خاک شفا کیا
عاشور ایک روز کا صدیوں پہ چھا گیا
کربوبلا کو عرش معلیٰ بنا دیا
بس یا حسین۔۔۔
سلام یا حسین رب کا اعتبار مل گیا
تو جسکو مل گیا رب اسکو مل گیا
جب رن میں ذوالفقار علی ناگاہ چلی
بچھ بچھ گیء صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی
چمکی تو اس طرف ادھر آی وہاں چلی
دینے کو داد عرش سے پیاسے کی ماں چلی
مدت کا تال میل تھا برسوں کا ساتھ تھا
جیسی وہ ذوالفقار تھی ویسا ہی ہاتھ تھا
کھا کھا گیء صفوں کو جدھر آی ذوالفقار
گہ چپ گی تو گاہ نظر آی ذولفقار
سر پر چمک کے تا بہ قمر آی ذوالفقار
زیں کاٹ کر زمیں پہ اتر آی ذوالفقار
پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی
اللّٰہ کا غضب ہے لڑائی حسین کی
حسین یا حسین
آی نداے غیب کہ شبیر مرحبا
اس ہاتھ کے لئے تھی یہ شمشیر مرحبا
یہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا
بس بس حسین بس میرے دلگیر مرحبا
وقتِ نماز عصر ہے تکبیر مرحبا
بس یا حسین۔۔۔
لبیک کہکے تیغ رکھی شہ نے نیام میں
پلٹی سپاہ آی قیامت جہان میں
لو خنجروں میں تیغوں میں بھالوں میں گھر گےء
تنہا حسین برچھیوں والوں میں گھر گےء
حسین یا حسین
ریحان و سرور حزیں سنو یہ ایسا راز ہے
حسین کہہ رہے تھے بس خدا پہ مجھکو ناز ہے
نہ بھای نہ پسر رہا ہے نہ کوئی چارہ ساز ہے
اذان ہے حسین ہے خداے بے نیاز ہے
نہ زین نہ زمین پر یہ آخری نماز ہے
حسین یا حسین
جس کے دل میں حسین رہتا ہے
فرش مجلس کا جو بچھاتا ہے
جو بھی نوحہ کہیں سناتا ہے
لے کے نام حسین روتا ہے
اسکو زہرا سلام کرتی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.