Ay momino hussain se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Waaride Karbala recited by Himayath Ali Taha
اے مومنوں حسین سے مقتل قریب ہے
آخر ہے عمر منزل اول قریب ہے
شہر مدینہ دور ہے جنگل قریب ہے
زہرا کا چاند چھپتا ہے بادل قریب ہے
لینے کے واسطے ملک الموت آتے ہیں
مرقد کو اپنے پاؤں سے شبیر جاتے ہیں
القصہ منزل آخر عیاں ہوی
لیکن یہ صبح سبط نبی کو کہاں ہوی
جس جا سواری رک کے نہ آگے رواں ہوی
حیراں سپاہ قصر و کون و مکاں ہوی
چھ گھوڑے بدلے دوش نبی کے سوار نے
لیکن قدم بڑھایا نہ اک راہوار نے
جنبش نہ مرکبوں میں نہ پائی حسین نے
اک مشت خاک جھک کے اٹھای حسین نے
خود سونگھی اور بہن کو سنگھای حسین نے
ہمشیر کی سنی یہ دہای حسین نے
ہاے ہاے یہ خاک پھینکو میری جان جاتی ہے
بھیا تمہارے خون کی بو اس میں آتی ہے
باشندوں کو وہاں کے یہ مولا نے دی صدا
نام اس زمیں کے جتنے ہو لو تم جدا جدا
وہ بولے آپ کو ہو مبارک ہر ایک بلا
یہ نینوا ہے ماریہ ہے اور کربلا
معبود ہے یہ خلیل کا گنبد مسیح کا
شہ بولے اب یہ ہوے گا مدفن زبیح کا
عباس کو پکارے نہ آگے الم بڑھاؤ
منزل یہی ہے چھاؤنی پردیسیوں کی چھاؤ
ہمشکل مصطفیٰ کو ندا دی بڑھے نہ جاؤ
بیٹا قناعتیں گھیرو سراچے یہی لگاؤ
غرے کو تو ہوا ہے ہمارا سفر تمام
دسویں کو ہوگا فاطمہ زہرا کا گھر تمام
مسند پہ یاں بٹھا کے بہن کو شہ خدا
کرسی بچھا کے بیٹھے قریب حرم سرا
تھے دست بستہ گرد جوانان مہ لقا
لے لے کے نظریں آے زمیندار کربلا
استادہ فرط غم سے جو شبیر ہو گےء
نظروں پہ ہاتھ رکھ کے بغل گیر ہو گےء
بٹھلا کے پہلوؤں میں انہیں یہ کیا بیاں
اے کربلاییوں میں تمہارا ہوں میہماں
ظالم مجھے ستاتے ہیں جاتا ہوں میں جہاں
بیچو جو یہ زمین تو چند دن رہوں یہاں
رہنے سے یاں ہمارے سب آرام پاےنگے
خاک شفا تمہاری زمیں کو بناےنگے
دینار دے کے ساتھ ہزار ان سے یہ کہا
بخشی تمہیں زمین حبا میں نے کر دیا
شبیر کے معاملے پر سب نے رو دیا
لکھنے لگا قبالہ زمیندار کربلا
غل پڑ گیا حسین وطن کو نہ جاے گا
لو مول لی زمیں یہی بستی بساےنگے
مرقوم ہو رہا تھا قبالہ کہ ناگاہ
خیمے سے ایک زن عربیہ ہوی عیاں
سرتا قدم لباس میں سارا بدن نہاں
پر اس پہ بھی حیا سے لرزتے تھے استخواں
بیتاب ہوکے الفت اکبر میں آی تھی
راوی نے یہ لکھا ہے وہ زہرا کی جای تھی
لے کر بلاییں بھای کے کچھ میں کہا
اور جلدی یوں پھری کہ نہ سایہ نظر پڑا
کرسی سے یاں تڑپ کے گرے شاہ کربلا
عباس نے اٹھا کے کہا ہاے کیا ہوا
مولا بتا قسم تجھے شیر بتول کی
کیا کہہ گیء نواسی جنابِ رسول کی
شہ بولے آہ مجھ سے یہ زینب کا تھا کلام
بھیا قبالہ میں علی اکبر کا ہوے نام
یعنی کہ اسکی ملک میں ہو یہ زمیں تمام
عباس جاؤ کہدو کہ مجبور ہے امام
اٹھارہ سال کے یہ زمان سے جاےنگے
اک قبر کی جگہ علی اکبر بھی پاےنگے
عباس خیمے میں گےء دینے کو یہ پیام
زینب نے دیکھتے ہی انہیں یہ کیا کلام
کیوں بھای میری بات پہ راضی ہوے انام
لکھا گیا قبالے میں اکبر کا میرے نام
دولہا بناؤں گی میں لہن بیاہ لاؤں گی
اکبر کے نام کی یہاں ستی بساؤں گی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.