Aaj maqtal may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ustad Sibte Jafar
آج مقتل میں عجب بے سر و ساماں ہے حرم
دل ہے مجروح کھلے سر ہے پریشاں ہے حرم
قتلِ شبیر سے بیتاب ہے گریہ ہے حرم
وارثوں میں نہیں اب کوئی تو حیراں ہے حرم
ذکرِ مظلومی شاہ مدنی کرتے ہیں
کبھی آہیں تو کبھی سینہ زنی کرتے ہیں
خیمے سب جل چکے ہیں لوٹ چکے ہیں اعدا
فرق پر ہے کسی بی بی کے نہ مقنہ نہ ردا
شام ہونے کو ہے سنسان ہے جنگل سارا
پاس بچوں کو لیےء بیٹھی ہے بنت زہرا
پیار کرتی ہے اسے گہہ اسے سمجھاتی ہے
کوئی معصوم جو روتا ہے تو بہلاتی ہے
روکے فرماتی ہے یہ خواہر سلطان انم
اٹھو سجاد کی اب دن ہوا جاتا ہے ختم
جھٹ پٹا وقت ہے کچھ دیر میں ہونے کو ہے شام
اب نہ قاسم ہے نہ عباس نہ اکبر نہ امام
دل پج مردہ پہ اک غم کی گھٹا چھائی ہے
رات ہونے کو ہے اور عالم تنہائی ہے
کان میں پہنچی جو سجاد کے زینب کی صدا
کھول کر آنکھ یہ کی عرض بصد آہ و بکا
کیا کہوں آپ سے قابو میں نہیں دل میرا
تپ ذیادہ ہے تو غفلت بھی نہیں کچھ آج سوا
کون مارا گیا اور کون جدا ہوتا ہے
مجھکو کچھ ہوش نہیں ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے
بولے فضہ سے یہ پھر عابد بیمار و حزیں
جتنے بچے ہے بلا لو تو انہیں میرے قریں
جمع فضہ نے کیا بچوں کو لا لا کے وہی
پر نہ دو لڑکے تھے اور ایک سکینہ غمگیں
ڈھونڈنے چار طرف مثل نظر جاتی تھی
ان کے رونے کی صدا بھی نہ مگر آتی تھی
کہا عابد نے کی اے خواہر سلطان ہدا
لایےء شہ نے بنای ہے جو فرد شہداء
دیکھ لوں وہ تو میرے دل کو تسلی ہو زرا
نام تحریر ہے اس فرد میں کس کا کس کا
جو گےء خلد میں اب خواب ہے صورت ان کی
جو میرے ساتھ ہے لازم ہے حفاظت ان کی
سن کے یہ کہنے لگی زینب تفتیدہ جگر
لے گےء لوٹ کے اسباب تو سب بانیء شر
اسی اسباب میں وہ فرد بھی تھی اے دلبر
سن کے کہنے لگے سجاد یہ بدیدہء تر
فکر کچھ اور میں پابند علم کر لونگا
قتل جو ہو گےء نام ان کے رقم کر لوں گا
کہہ کے یہ لکھنے لگے خاک پہ نام شہداء
یاد آے جو وہ سب کرنے لگے آہ و بُکا
دل پہ اک تیر لگا نام جو اصغر کا لکھا
غمِ جانکاہ سے تھرا گےء سارے اعضاء
یاد کرتے تھے انہیں جب تو جگر جلتا تھا
تین بچوں کا کہیں پر نہ پتہ چلتا تھا
رو کے کرنے لگی سجاد سے زینب یہ کلام
جاے تشویش ہے دن کوئی گھڑی میں ہے تمام
ڈھونڈنے بچوں کو جاتی ہوں کہ ہو جاے نہ شام
دو اجازت مجھے بیٹا کہ تمہیں اب ہو امام
راستہ بھول گےء ہے نہ ادھر آییں گے
دشت میں جا کے پکاروں گی تو مل جایینگے
کہہ کے عابد سے چلی خواہر سلطان ہدا
آ زرا ساتھ میرے مڑ کے یہ فضہ سے کہا
وہ بھی ہمراہ ہوی کرتی ہوی آہ و بکا
پاؤں رکھتی تھی کہیں اور کہیں پڑتا تھا
جا بجا دشت میں لاشیں جو نظر آتے تھے
دل دھڑکتا تھا قدم خوف سے تھراتے تھے
آہ تھی لب پہ رواں عشق تھے اور دل تھا فگار
اک طرف کو یہ چلی جاتی تھی با حالات زار
ناگہاں دور سے دکھلای دیا اک سوار
بولی فضہ سے یہ زینب کے زرا بڑھ کے پکار
منتیں اس کی کریں گے تو ترس کھاے گا
اس سے بچوں کا پتہ دشت میں مل جاے گا
حکم پانا تھا کہ فضہ نے یہ دی بڑھ کے صدا
اے سوار اس طرف آ اس طرف آ بہر خدا
کوئی تکلیف نہ دیں گے تجھے ہم اس کے سوا
ہم غریبوں کی ہے ایک عرض اسے سنتا جا
دل ہے مجروح بہت روے جو ہے بھای کو
تجھ سے کچھ پوچھنا ہے فاطمہ کی جای کو
متواجی ہوا وہ سنتے ہی فضہ کی صدا
پاس آ کر کہاں کیا پوچھتی ہے اے دکھیا
بولی یہ خواہر شبیر کہ اے مرد خدا
کسی بچے کو تو دیکھا نہیں تو نے بتا
تشنہ لب ہے وطن آوارہ ہے دکھ پاے ہیں
چھوٹ کر ساتھ سے جنگل میں چلے آے ہیں
عرض کی اس نے جگر تھام کے بہ دیدۂ تر
ابھی سہرا میں جو ایک سمت پڑی میری نظر
دیکھا اک لاشے پر خوں ہے زمین پر بے سر
لڑکی اک چھوٹی سی بیٹھی ہوی روتی ہے مگر
وہ بھی روتا ہے ادھر جس کا گزر ہوتا ہے
اس کے نالوں سے عجب دل پہ اثر ہوتا ہے
رو کے فرمانے لگی زینب مجروح جگر
مہربانی کا صلہ دے تجھے رب اکبر
بس پتہ مل گیا احسان ہوا تیرا مجھ پر
کہکے اس سمت چلی گریہ کناں خاک بسر
اشک خون بہتے تھے قابو میں دل زار نہ تھا
ایک فضہ کے سوا دوسرا غم خوار نہ تھا
پہنچی مقتل کی طرف ڈھونڈتی بنت زہرا
دیکھا اس جا پہ ہے ایک نور سے معمور گڑھا
لاش ایک اس میں پڑی ہے کہ نہیں سر جس کا
اور سکینہ وہی بیٹھی ہوی کرتی ہے بکا
غش جو ہوتی ہے مزہ موت کا مل جاتا ہے
چونک پڑتی ہے تو دل سینے میں ہل جاتا ہے
آی نزدیک غرض زینب تفتیدہ جگر
بیٹھ کر لے لیا آغوش میں بہ دیدۂ تر
بولی لپٹ کے کلیجے سے میں قربان تجھ پر
تو نے پہچان لیا باپ کا لاشہ کیوں کر
ہجر سے مادر ناشاد ہوی جاتی ہے
بی بی اب گھر میں چلو رات ہوی جاتی ہے
عرض کی اس نے پھپھی سے یہ بصد آہ و بُکا
فرقت شہ میں تڑپنے جو لگا دل میرا
آ کے اس دشت میں چلائی میں بابا بابا
اے پھپھی مجھکو اسی لاش سے آی یہ صدا
آی ہوں سینۂ شبیر پہ سونے کے لئے
کہا زینب نے کہ اب گھر چلو رونے کے لئے
یہ تو بہلاتی تھی رو رو کے وہ دیتی تھی جواب
آتشِ غم سے وہ ننھا سا کلیجہ تھا کباب
گود میں مچلی ہوا دل جو زیادہ بیتاب
پیار کر کے اسے زینب نے بہ چشمِ پر آب
لی بلاییں کبھی گہہ آنکھوں سے آنسوں پونچے
خون سرور سے بھرے جو تھے وہ گیسوں پونچے
دونوں بچوں کو چلی ڈھونڈنے پھر وہ مضطر
دیکھتی کیا ہے کہ وہ باغ نبی کے گل تر
ناگہاں جا پڑی اک سمت بیاباں میں نظر
باہیں گردن میں ہے اور سو رہے ہیں رکھے سر
گرد اس طرح ہے ان چاند سے رخساروں پر
ابر باریک ہو جس طرح سے سیاروں پر
آی نزدیک جو روتی تو یہ نقشہ دیکھا
مٹی سر کا کہ وہاں لیتے ہے وہ ماہ لقا
ہونٹ سوکھے ہوے تھے پیاس جو تھی حد سے سوا
جس جگہ پا کے تری کچھ ہو کلیجہ ٹھنڈا
باپ کا سینہ نہیں ماں کی بھی آغوش نہیں
ایسے غافل ہے کہ تن کا بھی انہیں ہوش نہیں
دیکھتے ہی انہیں بس بیٹھ گیء زینبِ زار
لے کے دونوں کی بلاییں کیا پھر خوب سا پیار
سر رکھے خاک سے زانو پہ اٹھا کر ایک بار
بولی اب گھر میں چلو نیند سے ہو کر ہوشیار
سرد جنگل کی ہوا باعثِ آرام ہوی
دشتِ غربت میں خبر بھی ہے تمہیں شام ہوی
نیند سے جب ہوے ہوشیار نہ وہ رشک قمر
دم نہ پایا تو یہ فرمانے لگی پیٹ کے سر
جھک کے پھر غور سے چہروں پہ کہ زینب نے نظر
شاید ان دونوں کا اب ہو گیا دنیا سے سفر
دشتِ غربت میں کیا سب سے کنارہ بچوں
ہاے بے موت تمہیں پیاس نے مارا بچوں
عرض کرنے لگی زینب سے یہ فضہ غمگیں
بی بی ہاے ہاے میرے دل کو یہی ہوتا ہے یقیں
لوٹ کر خیموں کو جانے لگی جب فوج لعیں
آ گےء گھوڑوں کے پاؤں میں یہ خرشید مبیں
حال ان کے جگر و قلب کو تڑپاتے ہیں
پھول سے جسموں پہ سب نیل نظر آتے ہیں
بس حسیں روک قلم اب نہیں تابہ تحریر
دل میں نشتر کی طرح چھبھتے ہیں اب رنج کے تیر
صاف ہر زخم صدا دیتے ہیں ہاے ہاے شبیر
کیسی برگشتہ ہوی اہلِ حرم کی تقدیر
آسماں گر نہ پڑا پھٹ کے ستمگروں پر
ظلم کیا کیا نہ کےء فاطمہ کے پیاروں پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.