Amma ghareeb hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
نوکِ سناں کے اوپر کہتا تھا فرقِ سرور
گھر لُٹ گیا ہے میرا مارا گیا برادر
اماں غریب ہوں میں
اصغر کے خوں سے میں نے دیکھو وضو کیا ہے
اس امتحان میں اُس نے بھی سُرخرو کیا ہے
اس کی لحد بنا کر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
میں کس قدر ہوں پیاسا اماں بتائوں کیونکر
سوکھا گلا تھا اتنا چلتا نہیں تھا خنجر
قبضے میں رکھ کے کوثر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
میں کیسا باپ تھا جو اے دورِ امتحانی
روتی رہی سکینہ میں دے سکا نہ پانی
آئے یقیں نہ کیونکر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
برچھی جواں پسر کے سینے سے میں نے کھینچی
انصارو اقربائ کی قاسم کی لاش دیکھی
ابنِ امیر ہو کر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
گھوڑوں کے دوڑنے سے پامال ہو چکا ہوں
کیا اب بھی میں وہی ہوں حیراں ہوںسوچتا ہوں
ناقہ بنے پیعمبر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
آپ آ گئی ہیں اماں یاد آ رہا ہے بچپن
وہ ساتھ ساتھ چلنا اور اپنے گھر کا آنگن
اب خاک کا ہے بستر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
دل غم سے چاک بھی ہے زخموں میں خاک بھی ہے
اُڑتی ہوئی نظر میں خیموں کی راکھ بھی ہے
زینب کا ہے کھُلا سر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
ریحان پھٹ نہ جائے اہلِ عزا کاسینہ
بس روک لے یہیں پر شبیر کا یہ نوحہ
سب رو رہے ہیں سُن کر
اماں غریب ہوں ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.