Ameer bhi hai ghareeb
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
امیر حسین غریب حسین
امیر بھی ہے غریب بھی ہے
حسین محبوبِ کبریا ہے
حسین غربت کی انتہا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
حسین مقصودِ کربلا ہے
حسین مظلومِ کربلا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا کفن کی سوغات
جس کہ روضے سے بٹ رہی ہے
غریب ایسا کہ خودکو اب تک
کفن میسر نہیں ہوا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا کہ جس کا جھولا
نبی جھلائیں علی جھلائیں
غریب ایسا کہ جس کے بچے
کا بن میں جھولا بھی جل گیا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا کہ رسمِ پردادری
چلی ہے اُسی کے گھر سے
غریب ایسا کہ شام و کوفہ
میں اُس کی ہمشیر بے ردا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا سکینہ جیسی
خدا نے بیٹی جسے عطا کی
غریب ایسا اُسی کے منہ پر
کوئی طمانچے لگا رہا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا کہ جسکے بابا
کی ملکیت میں ہے حوضِ کوثر
غریب ایسا کہ تین دن سے
اُسی کو پانی نہیں ملا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا خدا کا دیں
جسکے دم سے ہے آج تک سلامت
غریب ایسا کہ رن میں جس کا
بدن سلامت نہیں رہا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
امیر ایسا کہ پتھروں کو
بنادے گوہر وہی تکلم
غریب ایسا کہ پتھروں میں
اُسی کا لاشہ چھپا ہوا ہے
امیر بھی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.