Kehti thi ran may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mir Momin Ali Qaisar
کہتی تھی رن میں آکے سکینہ جواب دو
جان نبی و فاطمہ زہرا جواب دو
کیوں سو رہے ہو خاک پہ تنہا جواب دو
آی ہوں تم کو ڈھونڈنے اس جا جواب دو
مرتی ہوں غم سے میرے مسیحا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
زخمی ہوے ہیں کان میرے چھن گےء گوہر
کس سے کہوں کہ زخموں میں ہے درد بیشتر
فریاد تم سے کرنے میں آی ہوں اے پدر
ہے قابل ملاحظہ یہ حال سر بسر
دیکھو یہ خوں بھرا ہوا کرتہ جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
قیدی بنا کے شام کو لے جاتے ہیں ہمیں
پرسہ نہیں ہے کوئی کہ کچھ ان سے ہم کہیں
فریاد غمزدوں کی نہ حضرت بھی گر سنے
کب تک ان آفتوں میں رہیں آہ کیا کرے
کیا کہہ رہی ہوں سید والا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
اے جانِ فاطمہ و پیمبر اٹھو اٹھو
اے نور عین فاتح خیبر اٹھو اٹھو
دیکھو اسیر ہو گیء خواہر اٹھو اٹھو
چلا رہی ہے آپ کی دختر اٹھو اٹھو
کیا سو رہے ہو بیٹی کے شیدا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
بے گور کیوں پڑے ہیں تمہارے رفیق سب
لاشہ یہ جلتی ریتی پہ میں دیکھتی ہوں جب
ہوتا ہے میرے دل پہ دوبالا غم و تعب
دفناتا ان کو کوئی نہیں اس کا کیا سبب
کیوں بے کفن ہر ایک کا ہے لاشہ جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
آتی ہے دادی جان کی آواز یاں سنو
کس درد سے پکارتی ہے بابا جاں سنو
کرتی ہے کیسی رنج و الم کی بیاں سنو
کیا سو رہے ہو بنت نبی کی فغاں سنو
کن منتوں سے کہتی ہے زہرا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
پوچھے جو مجھ سے حال تمہارا بیاں کروں
پیاسے شہید ہو گےء بابا بیاں کروں
اکبر کا میں نے دیکھا ہے لاشہ بیاں کروں
اصغر کا سر بھی نیزے پہ دیکھا بیاں کروں
کیا کہہ کے اسکو دوں میں دلاسہ جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
روتے تھے آپ میں جو کبھی کرتی تھی فغاں
سمجھا کے لے کے گود میں کرتے تھے یوں بیاں
قربان تیرے آنکھوں کے آنسوں نہ کر رواں
اب میرا رونا اور یہ غم کھانا بابا جاں
کیوں آپ کو ہوا ہے گوارا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
روتی تھی میں تو رہتے نہ تھے آپ نے مناے
ملبوس اپنے ہاتھ سے اکثر مجھے پہناے
سوتے نہ تھے بغیر مجھے سینے پر سلاے
اب اے سکینہ اے شہ ابرار ہاے ہاے
کیسا قرار آپ کو آیا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
پاؤں میں چھالے اور صحرائے خار دار
بے طاقتی پیادہ روی جسم میں بخار
گر کے زمیں پہ ضعف سے اٹھتا ہے بار بار
اس ناتواں کے ہاتھ سے کھنچواتے ہیں مہار
بیٹے کو تھا اسی لیےء پالا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
مشکل کشاء کے پوتے کا بازو ہو اور رسن
زہرا کی بیٹیوں پہ ہو یہ رنج یہ محن
سر پر نہ چادریں ہو نہ برقع نہ پیرہن
بازارِ شام اور تماشائی مرد و زن
کب تک یہ حال زار رہے گا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
بے آپ کے وطن کو نہ لے جاے اب خدا
کیا خوب ہو جو آے اسی جا میری قضاء
بل فرض گر مدینے میں جانا میرا ہوا
کیا میں کہوں جو پوچھے گی احوال آپ کا
مجھ سے کہے گی فاطمہ صغرا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
قابل تیرا غلام ہے یا شاہ کربلا
خاطر سے میری آپ سنے اسکی التجاء
بر آییں جلد جلد تمام اس کے مد دعا
میں پوچھتی ہوں اس کے مرادات سب شاہ
کب تک بر آیینگے میرے آغا جواب دو
بابا جواب دو میرے بابا جواب دو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.