Al amaan al hafeez
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Ali Yazdan
آمد ہوی جو بر سرِ میداں حسین کی
اور دلبر رسول شہہ مشرقین کی
سردار دو جہان شہ قبلہ قین کی
حیدر کے لال فاطمہ زہرا کے چین کی
شبیر نے شروع کیا اپنے خطاب کو
سن کر پسینہ آنے لگا آفتاب کو
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
جس گھڑی جلوہ نما شاہ کی تلوار ہوی
فوج اعدا پہ چلی بر سرِ کفار ہوی
صرف پھرتی ہوی میداں میں نظر آی اجل
اک صدا تھی جو زبان در و دیوار ہوی
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
پل میں چمکی سر سر پل میں سر ثانی
جسم کے شہر میں ہر سمت ہوی ویرانی
چھوڑ کر روحوں میں جسموں کو چنی راہ فراق
تھی سر دشت صدا ٹہرو علی کے جانی
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
تب رن میں ذوالفقار علی جلوہ گر ہوی
یک دم فضاے کربوبلا میں سحر ہوی
زیب ید حسین شہ بحروبر ہوی
سناٹا رن میں چھا گیا جوں جوں خبر ہوی
غازی کی آدھی جنگ تھی دیکھی ترای نے
ٹھانی ہے پورا کرنے کی غازی کے بھای نے
دست شبیر نے جب غیض میں تولی تلوار
پر سمیٹے ہوے پیچھے ہٹے جبریل اک بار
اتنی دہشت ہوی طاری کہ لرز اٹھی زمیں
ہر طرف گونج اٹھی دشت وغا میں یہ پکار
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
اپنی حیبت دل باطل پہ رقم کرتی ہوی
ہستیء اہلِ ستمگر کو ادم کرتی ہوی
اپنی ٹھوکر پہ لیےء ہے سر میدان وغا
جھومتی ہے سر باطل کو قلم کرتی ہوی
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
جو بھی پنجے میں چلا آیا وہ فنار ہوا
دشت کچھ دیر میں ہی لاشوں کا امبار ہوا
اس طرف کثرتِ افواج میں آی خلعت
شاہ کی تیغ کا رخ جس طرف اک بار ہوا
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
سورماؤں کو زمیں دوز کیےء جاتی ہے
خونِ اغیار شہ دین پیےء جاتی ہے
آج تھوڑا سا میسر ہوا موقع اس کو
فاطمہ زہرا کا بدلہ بھی لیےء جاتی ہے
الاماں الحفیظ الاماں الحفیظ
سن کے ہاتف کی صدا شاہ نے روکی تلوار
پھر ہجوم ستم اعلیٰ ہوا شل سے اک بار
زین سے سوے زمیں شاہ خوش اتبار چلے
گود پھیلا کے یہ زہرا نے پکارا زنہار
حسین حسین حسین حسین
یہ شور ہے گریہ ہے اک ماں کا یہ نوحہ ہے
ہر سمت فضاؤں میں بس ایک ہی نعرہ ہے
حسین حسین حسین حسین
بے خطا ہاے تجھے قتل کیا
ایک لمحہ نہ تجھے چین دیا
خنجر اہلِ ستم اہلِ جفا
اور مظلوم تیرا خشک گلا
شدت تشنہ لبی ہاے حسین
اور ظالم کی چھری ہاے حسین
خوں اگلتی ہے زمیں واویلا
چین زہرا کو نہیں واویلا
مقتل شاہ کا منظر ہے عجب
سینۂ شاہ پہ ظالم ہے غضب
ایک ماں کرتی ہے فریاد و فغاں
حسین حسین
بر امداد علی آے یہاں
لٹنے والا ہے نبی کا کنبہ
کٹنے والا ہے شہ دیں کا گلا
یہ صدا تھی کہ قیامت گزری
پھر گیء حلق شہ دیں پہ چھری
کربلا روتی رہی ہاے حسین
اور ماں کہتی رہی ہاے حسین
ہاے حسین ہاے حسین
آسماں خون اگلتا ہے براے مولا
اوڑھ کر غم کی ردا سوگ میں ڈوبی ہے فضا
کیسا منظر تھا عجب دایم و یزداں بہ خدا
ایک ماں روتی تھی اور پڑھتی تھی روکر نوحہ
حسین حسین حسین حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.