Abadwalla ya zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Nadeem Sarwar
وعدہ ہے ہمارا
یا فاطمہ زہرا
نہیں بھولیں گے حسینا
اس نے ہم کو نہ بھلایا
ہم نے اس کو نہ بھلایا
حسين حبه يمحوا الخطايا
هو النور الذي يهدي البرايا
منه لاح بدر الهدىٰ
لن ننساه طول المدیٰ
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
هللھ هللھ یا ولینا
احنه خدامك اجينه
وعدہ ہے واللہ
یا فاطمہ زہرا
وعدہ ہے ہمارا
یا فاطمہ زہرا
نہیں بھولیں گے حسینا
قسم اللّٰہ کی وہ جس نے ہمیں خلق کیا
اور ہمیں کربوبلا کے لیئےمخصوص کیا
ہم وہی لوگ ہے واللہ دعائے زہرا
اس نے ھل من جو کہا ناصرن ینصرنا
ہم نے لبیک کہا
اس نے ہم کو نہ بھلایا
ہم نے اس کو نہ بھلایا
حسین حسین
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
هللھ هللھ یا ولینا
احنه خدامك اجينه
وعدہ ہے ہے واللہ یا فاطمہ زہرا
وعدہ ہے ہمارا
یا فاطمہ زہرا
نہیں بھولیں گے حسینا
عظم الله لك الا جر علي
بھالمصیبة يا حيدر یا علي
یا علی آپ کے ہر رنج و مصایب کی قسم
آپ کے غم کی ہے مقروض یہ نسل آدم
چودہ صدیوں سے مسلسل ہے عزا و ماتم
گو کہ ہر چند ہوئے ہاتھ قلم پاؤں قلم
زائر کربوبلا کے نہ رکے پھر بھی قدم
عظم الله لك الا جر علي
بھالمصیبة يا حيدر یا علي
لو قطعوا ارجلنا و اليدين
ناتيك زحفا سيدي یا حسین
حسین حسین
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
هللھ هللھ یا ولینا
احنه خدامك اجينه
وعدہ ہے ہے واللہ
یا فاطمہ زہرا
وعدہ ہے ہمارا
یا فاطمہ زہرا
نہیں بھولیں گے حسینا
ایک وعدہ ہے جو شبیر سے ہم سب نے کیا
ایک وعدہ ہے جو شبیر نے بچپن میں لیا
اپنے ماں باپ سے نانا سے برادر سے کہا
آپ سب میرے عزاداروں کو کیا دیں گے صلہ
بولے سرکار محمد میں شفاعت دوں گا
بولے حیدر کہ میں کوثر کی بشارت دوں گا
اور حسن بولے میں سردار ہوں جنت دوں گا
بولی زہرا تیرا وعدہ ہے شہادت دوں گا
میں بھی جنت میں نہ رکھوں گی قدم میرے حسین
جب تلک خلد میں جائے نہ عزادار حسین
حسین حسین
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
هللھ هللھ یا ولینا
احنه خدامك اجينه
امام حسین امام حسین امام حسین
وعدہ ہے ہمارا
یا فاطمہ زہرا
نہیں بھولیں گے یا زہرا
آتی ہے فاطمہ زہرا کی صدا
اے عزاداروں سنو
اے عزاداروں نہ جب تم بھولے
بھول جائے تمہیں زہرا کیسے
مجھ پہ کیا کیا نہ مصائب ٹوٹے
میرا دو بار جلا گھر لوگوں
میرے پہلو پہ گرا در لوگوں
داغ محسن ہے جگر پر لوگوں
مجھکو دربار بلا کر لوگوں
کاٹا ہے قلب پیمبر لوگوں
نہیں بھولیں گے یا زہرا
نہ میں عباس علمدار کے بازو بھولی
نہ میں زینب کا تڑپنا کسی پہلو بھولی
گرد آلود سکینہ کے نہ گیسو بھولی
نہ ہی سجاد کے خوں رنگ وہ آنسو بھولی
نہیں بھولیں گے یا زہرا
اپنے بچے کے رفیقوں کو بچھڑتے دیکھا
خاک پہ عون و محمد کو تڑپتے دیکھا
میں نے ٹکڑے ہوئے قاسم کا جنازہ دیکھا
ایڑیاں خاک پہ اکبر کو رگڑتے دیکھا
میں نے اصغر کا گلا تیر میں الجھا دیکھا
جس گھڑی لال میرا زین سے ریتی پہ گرا
تیرہ ضربوں سے میرے سامنے سر اس کا کٹا
حسین حسین
ہائے پھر شامِ غریباں نے مجھے لوٹ لیا
وہ ردا میری تھی اعداء نے جسے لوٹ لیا
میں نہ بھولوں گی وہ بازار
ہائے وہ شام کا دربار
نہیں بھولوں گی وہ زنداں
ہائے میرا عابد بیمار
زہرا زہرا
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
شبیر کی غربت کو
نیزے پہ تلاوت کو
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
عباس کو اکبر کو
قاسم علی اصغر کو
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
جلتے ہوئے خیموں کو
چھنتی ہوئی چادر کو
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
زینب کی شجاعت کو
عابد کی قیادت کو
زہرا نہیں بھولیں گے
واللہ نہیں بھولیں گے
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
هللھ هللھ حسین وینه
بالسيوف مگطعينه
ابد واللہ یا زہرا ماننسا حسینا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.