Ghar se jab behre safar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Safre Imam Hussain recited by Momin Ali Qaisar
گھر سے جب بہر سفر سید عالم نکلے
سر جھکائے ہوے با دیدۂ پرنم نکلے
خویش و فرزند و کمر باندھ کے باہم نکلے
روکے فرمایا کہ اس شہر سے اب ہم نکلے
رات سے گریہء زہرا کی صدا آتی ہے
دیکھیں قسمت ہمیں کس دشت میں لے جاتی ہے
رخ کیا شہ نے سوے قبر شہنشاہِ انام
بہر تسلیم جھکے متصل باب سلام
اذن پڑھکر جو گےء قبر کے نزدیک امام
عرض کی آیا ہے آج آخری رخصت کو غلام
یہ مکاں ہم سے اب اے شاہ زمن چھٹتا ہے
آج حضرت کے نواسے سے وطن چھٹتا ہے
چین سے سب ہیں گھروں میں مجھے ملتا نہیں چین
سخت آفت میں ہے اب آپکا یہ نورالعین
ٹکڑے دل ہوتا ہے جب روکے حرم کرتے ہیں بین
ننھے بچوں کو بھلا لے کے کدھر جاے حسین
شہر میں چین نہ جنگل عماں ملتی ہے
دیکھیےء قبر مسافر کو کہاں ملتی ہے
اب میرے سر کے لئے تیز ہوے ہیں خنجر
اہلِ کیں شر پہ کمر باندھے ہیں یا خیر بشر
آپ نے دی تھی اسی روز کی اماں کو خبر
والدہ روی تھی دو روز تلک پیٹ کے سر
اس نواسے کو مگر بھول نہ جانا حضرت
ذبح کے وقت مدد کرنے کو آنا حضرت
یہ وہ دن ہیں کہ پرندے بھی نہیں چھوڑتے گھر
مجھکو درپیش ہے ان روزوں میں آفت کا سفر
ہے کہیں قتل کا ساماں کہیں لٹ جانے کا ڈر
ساتھ ہے بچوں کا اے بادشاہ جن و بشر
تنگ جینے سے ہوں پاس اپنے بلالو نانا
اپنی تربت میں نواسے کو چھپالو نانا
یہ بیاں کرکے جو تعویذ سے لپٹے سرور
یوں ہلی قبر کہ تھرای ضریح انور
آی تربت سے یہ آواز حبیب داور
تیری غربت کے میں صدقے میرے مظلوم پسر
کوئی سمجھا نہ میری گود کا پالا تجھکو
ہاے اعدا نے مدینے سے نکالا تجھکو
اے میرے گیسوؤں والے میرے صابر شبیر
میرے بے کس میرے مظلوم مسافر شبیر
نہ رہا کوئی تیرا یاور و ناصر شبیر
ہاے گور غریباں کے مجاور شبیر
تو جہاں جاے گا پیارے میں وہی چلتا ہوں میں
خاک اڑاتا ہوا تربت سے نکلتا ہوں میں
کیء دن سے میری مادر کو نہیں قبر میں چین
آی تھی شب کو میرے پاس یہ کرتی ہوی بین
گھر میرا لٹتا ہے فریاد رسول الثقلین
صبح کو اپنا وطن چھوڑ کے جاتا ہے حسین
کہنے آی ہوں کہ منہ قبر سے موڑونگی میں
اپنے بچے کو اکیلا تو نہ چھوڑوں گی میں
سن کے یہ شہ نے کیا آخری رخصت کا سلام
نکلے روتے ہوئے جب روضہء انور سے امام
شہ سے اس دم یہ کیا رو رو کے زینب نے کلام
قبر پر ماں کی مجھے لے چلو یا شاہ انام
لوگ ہمراہ ہے محمل میں میں کیونکر روؤں
ماں کی تربت سے پھر اک بار لپٹ کر روؤں
ماں کی تربت پہ گےء شاہ بہ چشمِ خوں بار
اتری محمل سے بصد آہ و فغاں زینب زار
دوڑ کر قبر سے لپٹے جو امام ابرار
ہاتھ زہرا کے لحد سے نکل آئے اک بار
آی آواز نہ رو دل کو قلق ہوتا ہے
قبر ہلتی ہے کلیجہ میرا شق ہوتا ہے
ہاں بلاؤ میرا عباس دلاور ہے کدھر
وہ فدا ہے میرے بچے پہ میں صدقے اس پر
شکم غیر سے ہے پر وہ میرا ہے پسر
یہ صدا سن کے برادر کو پکارے سرور
ابھی رہوار نہ آگے نہ بڑھاؤ بھای
یاد فرماتی ہے اماں ادھر آؤ بھای
آکے عباس نے سر رکھ دیا پایینے مزار
آی زہرا کی ندا میں تیری غربت کے نثار
اپنے بچوں کے برابر میں تجھے کرتی ہوں پیار
دھیان بھای کی حفاظت کا رہے اے دلدار
کوئی غربت میں اسے مار نہ ڈالے بیٹا
میرا شبیر ہے اب تیرے حوالے بیٹا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.