Aakhri waar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
رن میں شبیر کو ذبح کرتے ہوے
شمر نے خود سنا آخری وار تک
پیاسے شبیر کے زخمی ہونٹوں پہ تھا
نام عباس کا آخری وار تک
زیر خنجر تھا بھای کا سوکھا گلا
کچھ قدم دور تھی زینب عالیہ
بھای کہتا رہا لوٹ جاؤ بہن
خشک گردن پہ جس وقت خنجر رکھا
دیکھ کر پہلا وار ایسی زینب گری
شمر ہنستا رہا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
یوں تو ستر قدم پہ تھی زینب کھڑی
کچھ قدم آگے بالی سکینہ بھی تھی
اپنے بابا کے سینے پہ سوتی تھی جو
لڑکھڑاتے ہوے خاک پر گر گیء
باپ کو دیکھ کر بیٹی روتی رہی
شمر سینے پہ تھا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
کھینچتا تھا کبھی ریش شبیر کے
مارتا تھا وہ ہنس کر طمانچے کبھی
پاؤں رکھتا تھا زخموں پہ شبیر کے
اور کبھی جسم پر مارتا تھا چھری
خون ہی خون تھا زخم ہی زخم تھے
اتنا مارا گیا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
شمر سے شاہ کا جب گل نہ کٹا
پاس سنان ابنِ انس آ گیا
مار کر نیزہ شبیر کے حلق میں
ایسے کھینچا ہوی ظلم کی انتہا
آ گیء ساتھ میں ساری سوکھی رگیں
نیزہ الجھا رہا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
بغض کتنا تھا ابنِ علی سے اسے
شمر جلدی میں تھا پہلے ہی وار سے
رن میں وہ دونوں ہاتھوں سے مصروف تھا
ایک پیاسے کا سر کاٹنے کے لئے
اسکے اک ہاتھ میں تیغ اور دوسرا
ہاتھ بالوں میں تھا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
اک ماں گود رکھ کے بیٹے کا سر
کب سے بیٹھی ہے یہ شمر کو کیا خبر
ساتھ شبیر کے فاطمہ کا لہو
بہہ کے خنجر سے گرتا رہا خاک پر
کٹ گیء اُنگلیاں پھر بھی سر نہ بچا
ہاتھ ماں نے رکھا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
اے رضا اور زیشان دیکھو زرا
کربلا میں ہے موجود وہ قتل گاہ
بیٹھ کر آج روتے ہیں زایر جہاں
کل وہاں شاہ کا کوئی اپنا نہ تھا
سب تماشائی تھے دیکھتے ہی رہے
شہ کا کٹتا گلا آخری وار تک
رن میں شبیر کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.