Musafirane musibat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Imtiaz Abbas
مسافران مصیبت وطن میں آتے ہیں
سفر سے آتے ہیں سوغات آہ لاتے ہیں
بجاے اشک وہ آنکھوں سے خوں بہاتے ہیں
اٹھا کے ہاتھ مدینے کو یہ سناتے ہیں
لٹا کے آے ہیں زہرا کے سب گھرانے کو
نہ کر قبول تہ ہم بیکسوں کے آنے کو
مدینے یاد تو ہو گا تجھے وہ جاہ و ہشم
گےء تھے کیسے تجمل سے کربلا کو ہم
وہ خیمے اور شہزادے اور وہ فوج و علم
اور اب سیاہ کفنی اور حسین کا ماتم
پسند آمد ذریت رسول نہ کر
مدینے ایسے حقیروں کو تو قبول نہ کر
مدینے ہم تیرے والی کو آے ہیں کھو کر
مدینے گردن شبیر پر چلا خنجر
مدینے کوفے میں سر ننگے ہم پھرے در در
مدینے داغ رسن ہے ہمارے شانوں پر
ہم آے زندہ پہ زہرا کا نورِ عین نہیں
مدینے اکبر و قاسم نہیں حسین نہیں
اجاڑ ماریہ میں ہو گیا چمن میرا
بچھڑ گیا علی اکبر سا گلبدن میرا
ہوا شہید ہر اک شیر صف شکن میرا
پڑا ہے بھای بیاباں میں بیکفن میرا
نبی کی آل کو اہلِ جفا نے لوٹ لیا
ہمارے کنبے کو رن میں قضا نے لوٹ لیا
ہلی زمین مدینے کی اس گھڑی پیہم
کیا بشیر کو سجاد نے طلب جس دم
گلے میں شال عزا ڈال دی بہ دیدۂ نم
اور اس کے ہاتھ میں رو کر دیا سیاہ علم
کہا کے جا نہیں گو اپنے منہ دکھانے کی
مگر وطن میں خبر کردے میرے آنے کی
چلا بشیر یہ دیتے ہوا خبر ہر جا
مگر محلہء ہاشم میں دیکھتا ہے کیا
کہ ایک مریضہ سر راہ ہے کھڑی تنہا
جو نام پوچھا تو رو رو کے بولی وہ صغرا
بشیر کہنے لگا کیوں تو شور و شین میں ہے
کہا یہ حال میرا فرقت حسین میں ہے
کھڑی ہوں منتظر اکبر کی دیکھوں کب آے
ہے گھر سے نکلی ہوں شاید کہ قاصد آجاے
خدا کہیں میرے بچھڑوں کو خیر سے لاے
کہ یہ مریضہ لب گور ہے شفا پاے
کوئی پدر کی خبر لاے پاؤں پڑتی ہوں
جدا مسی سے ہوں ایڑیاں رگڑتی ہوں
بشیر سمجھا یہ بنت حسین ہے صغرا
خاموش رہ گیا صغرا کے منہ پہ کچھ نہ کہا
پکاری فاطمہ گردن میں دیکھ شال عزا
تو بھای لایا ہے کس کی سنانی مجھکو سنا
وہ بولا قاصد بیمار کربلا ہوں میں
سنانی قبر پیمبر پہ لے چلا ہوں میں
وہ بولی رو رو کے بھائی یہ کیا سناتا ہے
وہ کون ہے جسے بیمار تو بتاتا ہے
سنانی کس کی ہے یہ مجھکو حول آتا ہے
کہ مسافت کی لحد پر تو کہنے جاتا ہے
عمامہ پھینک کے اس نے کہا دہائی ہے
تیرے حسین کی صغرا سنانی آی ہے
زمین پہ ہاے پدر کہہ کے گر پڑی صغرا
خبر یہ پھیلی تو ماتم ہر ایک گھر میں ہوا
تمام عورتیں نکلی گھروں سے کرتی بکا
نبی کی قبر پہ جا کر بشیر نے یہ
سفر سے لٹ کر ادھر بھوکی پیاسیاں آی
اٹھو رسول تمہاری نواسیاں آی
بشیر کہتا ہے واللہ روضہ کانپ گیا
لحد سے نالہ ہوا وا حسینا کا پیدا
ادھر زمیں پہ تڑپتی تھی فاطمہ صغریٰ
زنانے ہاشمیہ نے وہاں ہجوم کیا
ہلا کے شانہ کہا شاہ مشرقین آے
اٹھو حسین کی عاشق اٹھو حسین آے
وہ آنکھیں کھول کے بولی کہ مر گےء بابا
کہ اس میں قافلہء کربلا بھی آ پہنچا
بہن حسین کی سر ننگے دیتی تھی یہ صدا
حسین جب سے موے میں نے سر نہیں ڈھانپا
نہ مردہ اور نہ تابوت اخی کا لای ہوں
مدینے والوں میں بھای کو کھو کے آی ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.