Qaid ki zanjeer
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
ماتم ہے آج مومنوں ایسے اسیر کا
جس کے بدن کو قید کی زنجیر کھا گیء
زنداں میں اب بھی گونجتا ہے اس کا مرثیہ
جس کے بدن کو قید کی زنجیر کھا گیء
زنداں کے اندھیرے میں مشکل کشائی کی
کرتا رہا دعائیں جو اپنے رہائی کی
لو آج اس کے واسطے زندان کھل گیا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
فریاد کر رہی ہے وہ زنداں کی وحشتیں
کیسے بیان ہوسکے اس کی مصیبتیں
بیڑی کے ساتھ کھال بھی اس کی ہوی جدا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
کوئی تو آ کے پشت پہ درے لگا گیا
کوئی پیالہ زہر دغا کا پلا گیا
ہاے ہاے لہو لہان ہے جعفر کا لاڈلا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
دکھنے لگی تھی جسم مطہر کی ہڈیاں
کٹ کٹ گیء تھی پاؤں کی بیڑی سے پنڈلیاں
مرنے پہ بھی نہ طوقِ گراں بار کھل سکا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
قرآن کردگار کے پارے ہیں قید میں
رو رو کے چودہ سال گزارے ہیں قید میں
آخر وہ آج ہوگیا زندان سے رہا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
پل پر اندھیری رات کو رکھنے کو آے ہیں
مزدور اپنے کاندھوں پہ لاشہ اٹھاے ہیں
روتی ہے اس کے حال پہ مرقد میں فاطمہ
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
کتنا غریب آج ہمارا امام ہے
دفن و کفن کا ساماں نہ کچھ احتمام ہے
بھای نہ اسکے پاس بھتیجا نہ مہ لقا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
تلقین اپنے بابا کو آ کر پڑھایےء
مولا رضا یہ لاش اٹھانے کو آیےء
پل پر رکھا ہوا ہے جنازہ غریب کا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
عینی سلام سینکڑوں عامر کے ہو اسے
چلتا تھا قید خانے میں جو بیٹھ بیٹھ کے
رنگین اسکے خون سے زنداں کا فرش تھا
جس کے بدن کو قید کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.