Kazim ka janaza hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Mir Hasan Mir
یا باب حوائج مولا
مزدوروں کے کاندھوں پر کاظم کا جنازہ ہے
بغداد کے قیدی پر زندان بھی روتا ہے
اس درد نے تربت میں سجاد کو تڑپایا
زنداں سے نکل کر بھی آزاد نہ ہو پایا
ہے پہلا جنازہ جو زنجیروں میں جکڑا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
زنجیروں کو تکتی ہے شانوں کو ہلاتی ہے
میت کو کبھی اپنی گودی میں اٹھاتی ہے
اک ہاتھ ہے پہلو پر لگتا ہے یہ زہرا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
ذرے بھی لہو رو کر روداد سناتے ہیں
قدموں کے نشاں اس کے زنداں میں بتاتے ہیں
یہ نزع کے عالم میں کس طرح سے تڑپا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
جو لوگ گزرتے ہیں آپس میں یہ کہتے ہیں
گھر والے تو یثرب میں اس قیدی کے رہتے ہیں
پھر اس کے جنازے پر یہ کون ضعیفہ ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
کہتی ہے کوئی بی بی ہے وقت مصیبت کا
اب جلد مدینے سے آجا اے رضا آجا
بے گور و کفن کب سے بیٹا، تیرا بابا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
ہر روز ہی جاتی ہے وہ تربت زہرا پر
جا کر وہاں کہتی ہے معصومہء قم رو کر
دادی میرے بابا کو کیا آپ نے دیکھا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
شبیر کی غربت کا نوحہ یہ سناتے ہیں
سوکھے ہوئے لب اس کے امت کو بتاتے ہیں
اس نے بھی دم آخر پانی نہیں پایا ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
غربت ہے تکلم یہ شبیر کی غربت سی
اک بیٹی ہے یثرب میں صغرا کی طرح اس کی
اس واسطے میت کا رخ سوئے مدینہ ہے
مزدوروں کے کاندھوں پر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.