Shaheed se koi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Alamdar Razvi
شہید سے کوئی شمشیر کا مزہ پوچھے
مریض سے کوئی اکسیر کا مزہ پوچھے
اسیر سے کوئی زنجیر کا مزہ پوچھے
یتیم سے کوئی دلگیر کا مزہ پوچھے
ہر ایک سے گزرا زمانے میں رنج و غم ہاے ہاے
سہا نہ عابد بیمار سا الم ہاے ہاے
شہید ہوتے یوئے باپ کو پسر دیکھے
انی پہ نیزے کی ہاے ہاے سر پدر دیکھے
جوان بھای کا نکلا ہوا جگر دیکھے
پھپھی کو آنکھوں سے بلوے میں ننگے سر دیکھے
کسی نبی پہ نہ اس طرح کے الم گزرے
جو اس مریض پہ ہر طرح کے ستم گزرے
شہید تپ میں وہ کانٹوں پہ چلنا عابد کا
پہن کے بیڑیاں ہر ایک قدم پہ گر پڑنا
وہ ظلم و جور ستمگر حرم کا شور و بکا
وہ جسم لاغر عابد وہ دھوپ وہ درہ
سواے شکر خدا کچھ نہ کہتے تھے سجاد
دعاے امت عاصی میں رہتے تھے سجاد
پھرایا کانٹوں پہ سجاد کو بہ رہنہ پا
نبی کے کنبے کو بلوے میں لے گےء اعدا
جلایا خیمہء ناموسِ سید والا
پھرا کے بلوے میں زنداں میں قید کر ڈالا
تماشا دیکھنے سب اہلِ شام آتے تھے
حیا سے اہلِ حرم گردنیں جھکاتے تھے
ستم کے بعد ہوا قید سے جو چھٹکارا
لعیں سے باپ کا سر اس یتیم نے مانگا
سر حسین خزانے سے ہند نے بھیجا
سوار اونٹوں پہ کنبہ ہوا پیمبر کا
لحد میں لاش غریبوں کی ہاے دھرنے چلے
مہہ بتول کو پیوند خاک کرنے چلے
جو پہنچے کربوبلا عابد اسیر بلا
پدر کو دے کے کفن خاک میں رکھا لاشہ
لپٹ کے قبر سے چلاے یوں کہ اے بابا
وطن کو جاتا ہوں لو آخری میرا مجرا
وطن سے آیا تھا کس شان سے یہاں ہاے ہاے
لٹا کے گھر کو میں جاتا ہوں نیم جاں ہاے ہاے
لکھا ہے یوں کہ وطن آے جب شہ والا
پدر کی یاد میں ہر وقت کرتے تھے نالہ
نظر جو آتا تھا پانی تو روتے تھے مولا
ہمیشہ آنکھوں میں پھرتا تھا ہاے کربوبلا
پدر کے بعد بھی راحت ملی نہ عابد کو
دوبارہ قید کیا اس غریب زاہد کو
وطن سے لے گےء پھر کر کے بانیء شر
ہوی بھتیجے کی ہمراہ زینب مضطر
قریب شام جو پہنچے وہ دونوں نوحہ گر
لگایا بیلچہ زینب کی پشت کے اوپر
سفر میں زینب بیکس سے چھٹ گےء سجاد
دیار شام میں پھر آکے لٹ گےء سجاد
پھپھی کو سونپ کے جنگل میں سید والا
مدینے میں ہوا داخل وہ بیکس و تنہا
ولید شام کے حاکم نے زہر بھجوایا
وہ سم کے کھاتے ہی عابد نے کی جہاں سے قضا
فلک پہ حور و ملک عرش کو ہلانے لگے
زمیں پہ جن و بشر سر پہ خاک اڑانے لگے
محبوں داغ الم دل پہ دھر گےء سجاد
جو کھایا زہر تو صد حیف مر گےء سجاد
نبی کی آل کو بے آس کر گےء سجاد
یتیم ہو گےء باقر گزر گےء سجاد
سر اپنا پیٹتے مرقد سے مصطفیٰ نکلے
کلیجہ تھام کے کیونکر نہ فاطمہ نکلے
چراغِ دین نبی آج بجھ گیا یا رب
نشان پنجتن پاک مٹ گیا یا رب
اٹھا جہان سے سرتاج اب میرا یارب
خطاب بیوہء عابد مجھے ملا یا رب
کروں میں کیا میری قسمت بگڑ گیء یا رب
چمن میں فاطمہ کے اوس پڑ گیء یا رب
خدا کے عرش کا تارہ گزر گیا لوگوں
غضب ہے شاہ ہمارا گزر گیا لوگوں
حسن حسین کا پیارہ گزر گیا لوگوں
مدینہ لٹ گیا یا مصطفیٰ دہائی ہے
نجف اجڑ گیا یا مرتضیٰ دہائی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.