Baghdad ke pul
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Farhan Ali Waris
ہاے موسی کاظم
شہید بغداد کا جنازہ
مزدور اٹھا کر لاتے ہیں
بغداد کے پل پر کاظم کا
کس نے یہ جنازہ رکھا ہے
آفسوس کے مولا کا لاشہ
زنجیر ستم میں جکڑا ہے
...بغداد کے پل پر
زندان تو تنگ ہوتے ہیں مگر
اتنے بھی تنگ نہیں ہوتے
مولا تھے رکوع میں چودہ برس
احساس یہ خون رلاتا ہے
...بغداد کے پل پر
پہلے تو لعین نے زہر دیا
پھر لاش کو تنہا چھوڑ دیا
رونے کے لئے اس لاشے پر
بھائی نہ بہن نہ بیٹا ہے
...بغداد کے پل پر
اس قید ستم میں بھی مولا
رہتے تھے مصلے پر ہر دم
بے جرم نمازی قتل ہوا
رو رو کے مصلہ کہتا ہے
...بغداد کے پل پر
ایسی بھی غریبی دنیا میں
کیا لوگوں کسی پر دیکھی ہے
آفسوس جنازہ کاظم کا
مزدوروں سے اٹھوایا ہے
...بغداد کے پل پر
پیوست بدن میں ہیں کڑیاں
لوہار سے بولے یہ مولا
آہستہ کاٹ یہ زنجیریں
لاشہ یہ صداءیں دیتا ہے
...بغداد کے پل پر
عیدیں اٹھایس گزری ہے
بن باپ کے اے بابا میرے
اس عید پہ تم گھر آجانا
معصومہء قم کا نوحہ ہے
...بغداد کے پل پر
مظلوم میرے مولا تجھ پر
اولاد بھی تیری رو نہ سکی
بغداد نہیں دو عالم میں
اب ماتم تیرا ہوتا ہے
...بغداد کے پل پر
مظلومیء ابن جعفر کو
کیا کوئی بیاں کر پاے گا
فرحان اور مظہر روتے ہیں
ہر ایک زباں پر نوحہ ہے
...بغداد کے پل پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.