Baghdad ka qaidi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Shahid Baltistani
کر کر کے یاد سکینہ کو بغداد کا قیدی روتا ہے
بازار شام ہے آنکھون مین سجاد کا لب پر نوحہ ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
خود قید جہان پر کاظم ہے ہر دن ہے رات کے جیسا
زندان ہے یہ بھی تنگ مگر ہر رات رظا کا بابا
زندان شام جو یاد آے دیوار سے سر ٹکراتا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
ہے دور نگاہون سے لیکن اس کا بھع جوان جوان ہے بیٹا
جب یاد رضا کی آتی ہے رخ کر کے کربوبلا کا
ذخمی اکبر کے سینے کے نظرون سے بوسے لیتا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
جب شام کے ساے بڑھتے ہین بڑھتی ہے صداے گریہ
اک درد سا دل مین اٹھتا ہے کہتے ہین تٹپ کر مولا
ہے ساتھ رضا کے معصومہ زندان مین سکینہ تنہا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
مزلوم پراے دیس مین ہے ڈھارس ہے دل کو پھر بھی
مل جاےگا مجھ کوغسل و کفن بستی ہے مسلمانون کی
مظلوم حسین کی غربت پر دل خون کے آنسو روتا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
ہے چودہ برس سے قید مگر پھر بھی وہ یھی ہے کہتا
عابد کا رکوع اور میرا رکوع اک جیسا نہین ہو سکتا
مین تنہا ہون وہ مان بہنین بازار سے لےکر گزرا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
مظلومی ماتم کرتی ہے پڈتی ہے غربت نوحہ
وہ جسکے دادا کو آکر جبریل جھولاین جھولا
لاشہ اس کا مزدورون نے بخداد کے پل پر رکھا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
بخداد کے قیدی نے ہر دم عابد پہ کیا ہے گریہ
لیکن اکبر اس غربت پر سجاد بھی روتا ہوگا
زنجیرون مین تھا جکڑا ہوا جب کاظم نے دم توڑا ہے
کر کر کے یاد سکینہ کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.