Ye baat areeze may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Murtaza-Riaz
صدیوں کے ہر اک ظلم کو کیسے لکھوں
جو ہے درد سینے میں نہیں لکھ سکتا
آک آئیں تو قدموں میں گروں عرض کروں
ہر بات عریضے میں نہیں لکھ سکتا
یا امام یا امام یا امام یا امام
یہ بات عریضے میں نہیں لکھ سکتا
دکھ یہ ہے کہ غیروں کے علاوہ ہم نے
اپنوں سے بھی ہم سایہ میں پایا ہم نے
یہ منبر و محراب کے سوداگر لوگ
جن کے لئے خود کو بھی مٹایا ہم نے
---یہ بات عریضے میں
اس طرح اس دین کی خدمت کی ہے
مجلس میں دل و جان سے خطابت کی ہے
اور بیٹھ کے منبر پہ بڑے فخر کے ساتھ
اس ذکر کی لاکھوں میں تجارت کی ہے
---یہ بات عریضے میں
فنکار بھی شاعر بھی صدا گر بھی ہم
احساس نہیں ہے کہ اداکار بھی ہم
نغموں کو بھی نوحوں میں بدلتے ہیں ہم ہی
کہنے کو شاہ دیں کے عزادار بھی ہم
---یہ بات عریضے میں
اور دوسری جانب یہ رویہ برتا
ماتم کی تقاوت کو بھی تبدیل کیا
اور مانگ کے اسناد کسائ اپنوں سے
خود آئیہ تطہیر کو مشکوک کیا
---یہ بات عریضے میں
لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ امر خدا
کام وہ ہے جنہیں دولت و شہرت نے ڈسا
اے اکثریت قوم کی مخلص کے
مقصد ہے ہٹا ہی نہیں سکتے واللہ
---یہ بات عریضے میں
ہم لوگ نمازی بھی ہیں عزادار بھی ہیں
اور اپنی شہادت کے طلب گار بھی ہیں
یہ دشمن حیدر سے بھی کہہ دے کوئی
ہر طرح سے جان دینے پر تیار بھی ہیں
---یہ بات عریضے میں
نظروں میں ہے وہ کرب و بلا کا منظر
برچھی میں تھا جس دم علی اکبر کا جگر
مقتل کی زمین سرخ ہوئی جاتی تھی
دم توڑتا تھا باپ کے ہاتھوں میں پسر
---یہ بات عریضے میں
چلتا ہے وہ اک تیر جو سہ شوبہ ہے
اس ظلم پہ تاریخ بھی شرمندہ ہے
وہ تیر جو اصغر کے گلے پر ہے لگا
وہ تیر ہر اک قلب میں پیوستہ ہے
---یہ بات عریضے میں
بے دستی کے آنکھوں میں جو یہ آنسو ہیں
جذبات علمدار کے بے قابو ہیں
شبیر اٹھاتے ہیں جنہیں رو رو کر
سقائے سکینہ کے کٹے بازو ہیں
---یہ بات عریضے میں
پھر وقت نے شاہد نہ یہ منظر دیکھا
کٹتا ہوا سجدے میں کوئی سر دیکھا
بیمار نے خیمے کا ہٹا کر پردہ
شبیر کا سر نوک سناں پر دیکھا
---یہ بات عریضے میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.