Koi ghaibat mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کوئی غیبت میں بیٹھا خون کے آنسو بہاتا ہے
اُسے زینب کا جب بازار جانا یاد آتا ہے
کوئی غمخوار غیبت میں میسر ہی نہیں اُس کو
سو تنہائی میں ہر نوحہ وہ خود کو ہی سُناتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
اُنہیں گلیوں میں چل چل کر جہاں چلتی رہیں زینب
نشاں زینب کے قدموں کے وہ ہاتھوں سے مٹاتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
بقیع میں صدائے واہ حسینا گونج اُٹھتی ہے
وہ جب بھی قبرِ زہرا آکے سینے سے لگاتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
نہیں تھمتے ہیں اُس کی آنکھ سے آنسو کسی صورت
اُسے بے شیر کا جب مسکرانا یاد آتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
پدر کی گود کی خاطر سکینہ جب بھی روتی ہے
وہ لوری باپ کے لہجے میں بیٹی کو سناتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
خیال آتا ہے جب بھی پردہ زینب کا مہدی کو
کبھی تلوار پر وہ ہاتھ رکھتا ہے ہٹاتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
وہ حُجت ہے اُسی کا کام ہے اِس درد کو سہنا
کسی خاکی کے دل میں جون یہ غم کب سماتا ہے
کوئی غیبت میں بیٹھا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.