Hussain jab ke chale
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Shadaab Amrohvi
حسین جب کہ چلے بعد دو پہر رن کو
نہ تھا کوئی جو تھامے رکاب توسن کو
سکینہ جھاڑ رہی تھی عبا کے دامن کو
حسین چپکے کھڑے تھے جھکائے گردن کو
نہ آسرا تھا کوی شاہ کربلائی کو
فقط بہن نے کیا تھا سوار بھای کو
در قیام پہ أہل حرم بلکتے تھے
زمیں پہ عابد بیمار سر پٹکتے تھے
بہن جو روتی تھی مڑ مڑ کے شاہ تکتے تھے
زبان خشک تھی کچھ بات کر نہ سکتے تھے
پکارتے تھے حرم شاہ نامدار چلے
حسین مرنے چلے اور ہمکو مار چلے
کوی پکارتی تھی رو رو کے یا علی فریاد
تمہارے بیٹیاں جنگل میں ہوتی ہے برباد
کوئی ملول کوئی نوحہ گر کوئی ناشاد
کہیں زمین پہ باقر تھا اور کہیں سجاد
فلک پہ گل تھا کہ روح بتول روتی ہے
سکینہ چار برس کی یتیم ہوتی ہے
یہ فکر کر کے لگے رونے سید ابرار
تب آی کان میں آواز احمد مختار
حسین تیری غریبی پہ یہ رسول نثار
اگرچہ چل نہیں سکتا یہ پیاس سے رہوار
پیادہ پا طرف قتل گاہ جاؤ تم
ہماری امت عاصی کو بخشواو تم
حسین خوب سا روے نبی کا سن کے کلام
کہا نہ کیجیےء تشویش یا رسول انام
تمہاری امت عاصی پہ صدقے ہو یہ غلام
یہ کہکے گھوڑے سے کہنے لگے با عظم تمام
زیادہ مجھ سے تجھے اپنی جان پیاری ہے
اٹھا قدم کے میری آخری سواری ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.