Aaj shabbir pe kya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s)
آج شبیر پہ کیا عالم تنہائی ہے
ظلم کی چاند پہ زہرا کے گھٹا چھائی ہے
اس طرف لشکر اعداء میں صف آرائی ہے
یاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہے
برچھیاں کھاتے چلے جاتے ہے تلواروں میں
مار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں
زخمی بازو ہیں کمر خم ہے بدن میں نہیں تاب
ڈگمگانے ہیں نکل جاتی ہے قدموں سے رکاب
پیاس کا غلبہ ہے لب خشک ہیں آنکھیں پر آب
تیغ سے دیتے ہے ہر وار کا
اعداء کو جواب
شدت ضعف میں جس جا پہ ٹہر جاتے ہیں
سینکڑوں تیر ستم تن سے گزر جاتے ہیں
گیسو آلودہء خون لپٹے ہیں رخساروں سے
شانے کٹ کٹ کے لٹک آئے ہیں تلواروں سے
تیر پیوست ہیں خون بہتا ہے سفاروں سے
لاکھ آفت میں ہے ایک جان دل اعذاروں سے
فکر ہے سجدۂ معبود میں سر دینے کی
وار سے تیغوں کے فرصت نہیں دم لینے کی
خون سے پیچ عمامے کے ہیں سر زخمی ہے
ہے جبیں چاند سی پر نور مگر زخمی ہے
سینہ سب برچھیوں سے تا بہ کمر زخمی ہے
تیر بیداد سے دل زخمی جگر زخمی ہے
ضرب شمشیر سے بیکار ہیں بازو دونوں
ظلم کے تیروں سے مجروح ہیں پہلو دونوں
برچھی آ کر کوئی پہلو میں لگا جاتا ہے
مارتا ہے کوئی نیزہ تو غش
آ جاتا ہے
بڑھتے ہیں زخم بدن زور گھٹا جاتا ہے
بند آنکھیں ہیں سر پاک جھکا جاتا ہے
گرد زہرا و علی گریہ کناں پھرتے ہیں
غل ہے گھوڑے سے امام دو جہاں گرتے ہیں
گرتے ہیں قطرہء خوں زخم جبیں سے پیہم
دست مجروح سے کھنچ سکتے نہیں تیر ستم
فکر ہے بخشش امت کی کچھ اپنا نہیں غم
کرتے ہیں شکر خدا خشک زباں سے ہر دم
ہے عبا تیروں سے غربال قباء گلگوں ہے
ہونٹ ناوک سے ہیں زخمی ہے دہن پر خوں ہے
زیں سے ہوتا ہے جدا دوش محمد کا مکیں
چمن فاطمہ کا سرو ہے مائل
بہ زمیں
برچھیاں گرد ہیں بیچ میں ہیں سرور دیں
ہے یہ نزدیک گرے مہر نبوت کا نگیں
پاؤں ہر بار رکابوں سے نکل جاتے ہیں
یا علی کہتی ہے زینب تو سنبھل جاتے ہیں
لاکھ تلواریں ہیں اور ایک تن اطہر ہے
ایک مظلوم ہے اور ظالموں کا لشکر ہے
سینکڑوں خنجر فولاد ہیں اور ایک سر ہے
نہ کوئی یار نہ ہمدم نہ کوئی یاور ہے
باگ گھوڑے کی لٹکتی ہے اٹھا سکتے نہیں
سامنے أہل حرم روتے ہے جا سکتے نہیں
کوئی سید کا نہیں آہ بچانے والا
حربے لاکھوں ہیں اور ایک زخم اٹھانے والا
پیاس میں کوئی نہیں پانی پلانے والا
سنبھلے کس طرح بھلا برچھیاں کھانے والا
چرخ سے آگ برستی ہے زمیں جلتی ہے
مارے گرمی کے زباں خشک ہے لو چلتی ہے
کہیں دم لینے کو سایہ نہیں ہے وقت زوال
اینٹھی جاتی ہے زباں پیاس کی شدت ہے کمال
کبھی زینب کا ہے غم ، گاہ سکینہ کا خیال
دن جو ڈھلتا ہیں تو حضرت ہوئے ہے نڈھال
مثل خورشید بدن ضعف سے تھراتا ہے
نیر برج امامت پہ زوال آتا ہے
کہتے ہیں ظالموں سے خشک زباں دکھلا کر
بہر حق پانی کا ایک جام پلا دو لا کر
اہلِ کیں کہتے ہیں یہ تیغ ستم چمکا کر
آب شمشیر پیو برچھیوں کے پھل کھا کر
یہ سخن سن کے بھی غصہ نہیں فرماتے ہیں
یاس سے سوئے فلک دیکھ کے رہ جاتے ہیں
عرض کرتے ہیں یہ خالق سے کے اے رب غفور
تو ہے عالم کے نہیں کچھ تیرے بندے کا قصور
کرتے ہیں یہ مجھے بے جرم و خطا تیغوں سے چور
ہاتھ امت پہ اٹھانا نہیں مجھکو منظور
جانتے ہیں کہ محمد کا نواسہ ہوں میں
پانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں
تو نے بچپن سے میرے ناز اٹھائے یا رب
وہ عنایت کیا جو تجھ سے کیا میں نے طلب
تیرا محبوب بنا عید کو میرا مرکب
روزہ رکھا تو چھپا مہر نمایاں ہوئی شب
بھوک میں خلد کا کھانا مجھے امداد کیا
بھیج کر ہرنی کا بچہ میرا دل شاد کیا
اب اگر ہے یہ تیری مصلحت اے رب قدیر
ہو رواں حلق پہ اس پیاسے کے آب شمشیر
میرے مولا بہ سر و چشم ہے حاضر شبیر
حکم حاکم میں یہ طاقت ہے کروں میں تاخیر
جلد گردن پہ رواں خنجر باراں ہوئے
اے خوشا وہ جو تیری راہ میں قربان ہوئے
غم نہیں کچھ مجھے گو بیکس و بے یار ہوں میں
زیر شمشیر گلا رکھنے کو تیار ہوں میں
تو مددگار ہے مختار ہے لاچار ہوں میں
وقتِ مشکل ہے عنایت کا طلبگار ہوں میں
تیرے سجدے میں یہ سر تن سے جدا ہو جاوئے
عہد طفلی کا جو وعدہ ہے وفا ہو جاوئے
سختیاں مرگ کی کر اپنے کرم سے آسان
لب پہ تکبیر ہو جب حلق پہ خنجر ہو رواں
دل میں ہو یاد تیری بند ہو جس وقت زباں
دم بھروں تیرا ہی تن سے جو نکلنے لگے جان
بعد چہلم جو مجھے قبر میسر ہوئے
زخمی تن پر نہ فشار اے میرے داور ہوئے
رحم کر رحم کر شرمندہ ہوں اے یار خدا
بندگی کا تیرے جو حق تھا ادا ہو نہ سکا
خوف محشر سے بدن کانپتا ہے سر تا پا
ہو گی اعمال کی پرسش تو کہوں گا میں کیا
کوئی تحفہ تیرے لائق نہیں پاتا ہے حسین
ہاتھ خالی تیرے دربار میں آتا ہے حسین
تقویت دل کو کرم سے ہے تیرے یا رحمان
نہیں مایوس کہ رحمت ہے تیری بے پایاں
مشکلیں بندوں کی کر دیتا ہے دم میں آسان
شکر الطاف و عنایت میں قاصر ہے زباں
عاصیوں سے بھی محبت نہیں کم کرتا ہے
جرم وہ کرتے ہیں تو لطف و کرم کرتا ہے
میں تیری راہ میں مظلومی سے ہوتا ہوں فدا
تو ہے آگاہ کے دو دن کا ہوں بھوکا پیاسا
چاہتا ہوں میں یہی اپنی شہادت کا صلہ
مغفرت امت عاصی کی ہو اے بار خدا
ہے گوارا مجھے جو کچھ کہ اذیت ہوئے
ان کو دنیا میں بھی عقبی میں بھی راحت ہوئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.