Ek behan bhai ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Raza (a.s) recited by Irfan Hussain
ہاے ہمشیر رضا
یا معصومہ
قبر معصومہء قم سے اب بھی آتی ہے صدا
اک بہن بھائ کے لاشے پہ نہ جاے پای
جس گھڑی شہر خراساں میں بلواے گےء
بانیء ظلم و جفا ظلم سے کب بعض آے
تم کو مامون نے کیوں زہر کھلا کر مارا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
اے شہنشاہِ وطن تم نے بگاڑا کیا تھا
میرے پردیسی اخی تیرا سہارا کیا تھا
قم میں میں تنہا رہی تم تھے طوس میں تنہا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
زہر نے اپنا اثر جس گھڑی چھوڑا ہوگا
کٹ گیا ہوگا میرے بھائی کلیجہ تیرا
کتنی تکلیف ہوئی ہوگی غریب الغربا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
آپ سینے پہ رکھے ہاتھ تڑپتے ہونگے
بد نصیبی یہ میری مجھکو بلاتے ہونگے
نہ وطن جا سکی میں تو نہ بہن تک پہنچا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
میں تیری لاش پہ ہوتی تو یہ نوحہ کرتی
کم سے کم تیرے جنازے کی تو زینت ہوتی
میرے بھائی یہ مگر میرے مقدر میں نہ تھا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
کیا مسافر کو کبھی زہر دغا ملتا ہے
جب سفر میں کوئی پردیسی گزر جاتا ہے
یاد آجاتا ہے ہمشکل پیمبر بھیا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
مجھ سے بہتر کیء قسمت تھی میرے جدہ کی
لاشے شبیر تھی اور ثانیء زہرا بھی تھی
کم سے کم بھای کی میت کو بہن نے دیکھا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
ہاے عرفان نہ تھا میرا مقدر ایسا
کیا مبارک تیرا کم ہوگا یہ نوحہ میرا
میں بھی تنہا تھی کہیں بھای کہیں تھا تنہا
قبر معصومہء قم سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.