Zanjeer may jakde
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
زنجیر میں جکڑے ہوے بیمار کا ماتم
ہم کرتے ہیں کربل کے عزادار کا ماتم
وہ خون میں ڈوبا ہوا شبیر کا لاشہ
بے گور و کفن دھوپ میں ریتی پہ پڑا تھا
منظر یہ جگر تھام کے سجاد نے دیکھا
ہر سوں ہے بپا اب اسی غم خوار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
سجاد نے دیکھے ہیں عجب درد کا منظر
نیزوں کی بلندی پہ شہیدوں کے کٹے سر
ماں بہنیں تھی بازار میں بے مقنہ و چادر
شبیر کے مقصد کے مددگار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
رسی میں بندھا پیاسی سکینہ کا گلا تھا
کہتی تھی مجھے گود میں لے لیجیۓ بھیا
کس طرح سے دیتے اسے سجاد دلاسہ
ہے طوق سلاسل کے گرفتار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
آتا کبھی جب سامنے سجاد کے پانی
یاد آتی تھی اصغر کی اسے تشنہ دہانی
تڑپاتی تھی پیہم علی اکبر کی جوانی
آؤ کریں پیاسوں کے عزادار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
پاؤں میں ورم پشت پہ دروں کے نشاں تھے
زخمی ہوے سب راستے جب آبلے پھوٹے
بیمار تڑپتا ہی رہا زخم گلو سے
ہے قافلہء صبر کے سرداد کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
جب پوچھتا کوئی تو عجب ہوتا تھا کہرام
ٹوٹے ہیں کہاں سب سے زیادہ غم و آلام
دل تھام کے سجاد کہا کرتے تھے الشام
بازار کا زندان کا دربار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
روے ہیں تیرے غم میں علی اور حسن بھی
تڑپے ہیں تیرے غم میں شہ تشنہ دہن بھی
بے چین ہوی فاطمہ سرور کی بہن بھی
ماتم ہے تیرا احمد مختار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
مظلوم کے حصے میں بھی زہر ستم آیا
اک حشر رشید اہلِ مدینے میں تھا برپا
لو سو گیا اسلام کے زخموں کا مسیحا
اشکوں کی فضاؤں میں ہے بیمار کا ماتم
زنجیر میں جکڑے ہوے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.