Wo khoon ro ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Nasir Asghar Party
وہ خون رو کے یہ کہتا رہا زمانے سے
ردائیں چھینو نہ لوگوں میرے گھرانے سے
سوال آب پہ سونے پہ اُس کے رونے پہ
وہ مارتے تھے سكینہ کو ہر بہانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
سلایا جاتا تھا بے ہوش کر کے درّوں سے
جگایا جاتا تھا عابد کو تازیانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
بلائے کس طرح عباس کو مدد کے لئے
وہ بےردا تھی جھجھکتی رہی بلانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
کہا یہ گنج شہیداں میں باپ کے سَر نے
مجھے سكینہ بلاتی ہے قید خانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
کچھ اِس طرح سرِ کرب و بلا وہ اجڑے تھے
کے ڈر رہے ہیں ابھی تک وہ گھر بسانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
ردائے ثانی زہرا میں ڈھل گیا اکبر
غبار اٹھا جو لاشوں کے تھرتھرانے سے
وہ خون رو کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.