Uthja mere sajjad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Irfan Haider
شامِ غریباں جلتے خیمے اُٹھتا دُھواں
عون و محمد کی ماں
آئی سجاد کے خیمے میں
کہا شانہ ہلا کر رُوتے ہوئے
آباد رہے گی کرب و بلا
چل شام کریں آباد
اُٹھ جا میرے سجاد
میرا ماںجایا نہیں آیا
سُن زینب کی فریاد
اُٹھ جا میرے سجاد
اماں کا ہاتھ گلے پر تھا
دُور سے دیکھا تھا میں نے
مقتل میں سوکھی گردن پر
جب شمر نے تیراں وار کئے
وہ بھائی میرا واویلا
مارا گیا پیاسہ واویلا
جس بھائی پر قربان ہوئی
پیاسی میری اولاد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
خیموں میں ہی جل جائے یا
خیموں سے نکل جائیں باہر
کیا حکم ہے تیرا زینب کو
اک بار بتا دے تو اُٹھ کر
نہ قاسم ہے نہ اصغر ہے
عباس ہے اور نہ اکبر ہے
بس تیرا سہارا ہے ہم کو
بھیا شبیر کے بعد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
یہ شامِ غریباں ہے بیٹا
تیری پہلی شام امامت کی
تیری سالاری میں شام تلک
کرنا ہے سفر بن کر قیدی
نہ محمل ہے نہ ھودج ہے
نہ لشکر کی وہ سج دھج ہے
جب ہاتھ بندھیں گے گردن سے
غازی آئے گا یاد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
بے مقنع و چادر ناقت سے
ہمیں جانا ہے سجاد جہاں
اے لعل سنو کیسے ہوگا
سادات کا استقبال وہاں
بازار میں آنے سے پہلے
رُوکیں گے ہمیں دروازے پہ
گلیوں کو سجایا جائے گا
نئے ہوں گے ستم ایجاد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
سجاد تیری معصوم بہن
ظالم کے طماچے کھائے گی
مانگے گا کنیزی میں حاکم
دربار میں جب وہ جائے گی
مرجائے گی دُرّے کھا کھا کر
زندان میں اس کو دفنا کر
تجھے رونا ہے چالیس برس
نہ ہوں گے کبھی ہم شاد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
اشّام اشّام اشّام سُنا
اور آنکھیں کھولیں عابد نے
زینب نے کہا اے ذیشان و
عرفان سہارا دیتے ہوئے
مقتل میں پڑے اُن لاشوں کا
چہلم کرنے اُن پیاسوں کا
آئیں گے دوبارہ کرب و بلا
جب ہوںگے ہم آزاد
اُٹھ جا میرے سجاد۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.