Ay rozedaro aaho buka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Momin Ali Qaisar
اے روزہ داروں آہ و بکا کے یہ روز ہیں
سادات پر نزولِ بلا کے یہ روز ہیں
سرتاج اوصیاء کی عزا کے یہ روز ہیں
تم سے وداعِ شیر خدا کے یہ روز ہیں
زخمی ہوا امام تمہارا نماز میں
ظالم نے روزہ دار کو مارا نماز میں
ماہ مبارک رمضاں اور خدا کا گھر
تڑکا وہ نور کا وہ سب قدر کی صحر
پیش خدا وہ سجدے میں شیر خدا کا سر
اور ہاے تیغ ظلم کی ضربت وہ فرق پر
فوارے خوں کے زخم جبیں سے بہا کےء
سجدے میں آپ ربی الاعلی کہا کےء
سر پیٹو مومنوں سر حیدر ہوا دو نیم
ایماں کے برج کا مہہ انور ہوا دو نیم
سوچو تو فرق شاہ کا کیونکر ہوا دو نیم
لکھا ہے مغز تک سر اطہر ہوا دو نیم
زہرا نے بال کھولے نبی ننگے سر ہوے
تم بے امام اور حسن بے پدر ہوے
لکھا ہے جب دو نیم ہوا فرق مرتظی
صدر سے جبریل کے رونے کا غل اٹھا
پھینکی سروں سے زینب و کلثوم نے ردا
چلا کے بھاییوں کو پکاری غضب ہوا
سنتے ہو جبریل نے اس وقت کیا کہا
وہ بولے پیٹ کر قتل المرتضی کہا
دوڑے یہ کہکے جانب مسجد وہ نیک ذات
ڈوبی ہوی لہو میں ملی کشتیء نجات
ماتھے پہ خون باپ کا مل کر کہی یہ بات
ہاے ہاے اٹھایا قبلہ و کعبہ پہ کس نے ہاتھ
رلوایا نانا جان کو دارلسلام میں
بن باپ کا کیا ہمیں ماہ صیام میں
ناگاہ نمازیوں کا گروہ آیا ننگے سر
حیدر نے مجتبیٰ سے کہا آنکھیں کھول کر
پڑھواوء تم نماز جماعت کی اے پسر
ہم بیٹھے بیٹھے پڑھتے ہیں اپنے مقام پر
لیکن جبیں کے زخم پہ رومال باندھ دو
میرا سر شگافتہ اے لال باندھ دو
باندھا حسن نے زخم سر شاہ ذوالجلال
بولے علی کہ اور کسو درد ہے کمال
شبر نے جب کسا تو کیا پھر وہی مقال
پھر چست باندھ کر یہ پکارا وہ خوش خصال
اب درد کیسا اے اسد ذوالجلال ہے
ہاتھوں سے سر پکڑ کے کہا وہی حال ہے
پڑھوا کے پھر نماز جماعت کی مجتبیٰ
بابا کے سر پہ پڑھنے لگے آیہء شفا
ناگاہ آن کر کسی عورت نے دی ندا
زہرا کے پیاروں تم سے یہ زینب نے ہے کہا
بابا کو میرے جلد جو گھر میں نہ لاؤ گے
تو سر برہنہ مجھکو بھی مسجد میں پاؤ گے
بولے علی حواس ابھی سے بجا نہیں
زینب سے کہدو کوفہ ہے یہ کربلا نہیں
میں بے دیار و بے کس و بے آشنا نہیں
شیعہ ہیں گرد نرغہء اہلِ جفا نہیں
پردے سے ننگے سر تو ابھی کیوں نکلتی ہے
کیا حلق پر حسین کے تلوار چلتی ہے
ام البنین کو پایا جو صدمے میں مبتلا
باہیں گلے میں ڈال کے عباس نے کہا
اے اماں صدقہ دینے سے رد ہوتی ہے بلا
بھای حسن حسین ہیں زہرا کے دلربا
روشن کرو جہان میں تم اپنے نام کو
صدقہ اتارو شاہ نجف پر غلام کو
یہ سن کے اس ہراس میں سنبھلی وہ بے قرار
لے کے بلاییں بولی چلو میرے گلعزار
بابا پہ تم نثار ہو تم پر یہ ماں نثار
چلای بڑھکے مجمعہء ماتم میں ایک بار
سیدانیوں رنڈاپے کے غم سے پناہ دو
صدقہ اتارنے کو میں آی ہوں راہ دو
بولے علی تو ہوش میں اے نوحہ گر نہیں
عباس کے وقار کی تجھکو خبر نہیں
یہ فاطمہ کا بیٹا ہے تیرا پسر نہیں
شبیر کے لئے کوی ایسی سپر نہیں
زہرا سے رتبہ پوچھیےء اس نورِ عین کا
یہ کربلا میں ہوے گا فدیہ حسین کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.