Imaan ki jaan kya hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Alamdar Razvi
ایماں کی جان کیا ہے محبت علی کی ہے
راحت جو قبر کی ہے وہ الفت علی کی ہے
سایل بکف ہے سب وہ سخاوت علی کی ہے
قاتل کو دی عماں وہ مروت علی کی ہے
عادل ہو پیشوا ہو مدارالمہام ہو
گر ہو نبی کے بعد تو ایسا امام ہو
صدقے غلام تیری مصیبت کے یا علی
اے جانشیں جنابِ رسالت کے یا علی
قربان لہو بھری تیری صورت کے یا علی
ایام ہیں یہ تیری شہادت کے یا علی
یہ ظلم بے جہت یہ ستم بے سبب ہوا
تلوار تیرے سر پہ لگی کیا غضب ہوا
انیسویں سے آپکا ماتم ہے یا علی
خوں ہوگےء دلوں کا یہ عالم ہے یا علی
دفتر جہاں کا درہم و برہم ہے یاعلی
ماہ صیام ماہ محرم ہے یاعلی
مولا کی نذر کو گہر آشک لاے ہیں
یہ روزہ دار آپکے پرسے کو آے ہیں
مولا شگافتہ ہوا سجدے میں سر تیرا
سید تباہ ہوگیا کوفے میں گھر تیرا
سرور الم دلوں کو ہے شام و سحر تیرا
آقا انہیں دنوں میں ہوا تھا سفر تیرا
عالم سے بے خبر تھے خضوع و خشوع میں
تلوار جب لگی تھی جھکے تھے رکوع میں
گھر میں خدا کے قتل ہوا روزہ دار ہاے
ہاے ہاے امام ہاے شہ ذوالفقار ہاے
اے خانہ زاد حق شہ اطاعت گزار ہاے
مولود حرم میں ہے تو نجف میں مزار ہاے
یہ بندگی نثار جناب امیر کے
نکلے تو گھر سے مر کے خداے قدیر کے
لایا تھا زہر میں وہ جفا جو بجھا کے تیغ
مولا گرے زمیں پہ سجدے میں کھا کے تیغ
غل پڑ گیا کے سر پہ لگی مرتظی کے تیغ
کھای خدا کے شیر نے گھر میں خدا کے تیغ
گہرا ہے زخم فرق امام حجاز پر
سر سے ٹپک رہا ہے لہو جانماز پر
شیر خدا جو ہاتھوں سے تھامے تھے اپنا سر
خوں دونوں کہنیوں سے ٹپکتا تھا خاک پر
بھاگا جو ابنِ ملجم ملعون و بد سیر
پکڑا اسے علی کے محبوں نے دوڑ کر
لاے جو ہاتھ باندھ کے مولا کے سامنے
قاتل پہ مسکرا کے نظر کی امام نے
فرمایا میں نے کونسی کی تھی تیری خطا
پاداش نیکیوں کی یہی ہے جہاں میں کیا
کیا میں برا امام تھا اے بانیء جفا
رویا جو سر جھکا کے تو مولا نے یہ کہا
اس درد میں بھی سب کے مرض کی دوا ہیں ہم
باندھو نہ اس کے ہاتھ کے مشکل کشا ہیں ہم
دونوں ہی شب علی کو تڑپتے ہوی بسر
لیتے تھے اس طرف کبھی کروٹ کبھی ادھر
روکر دباتے پاؤں جو شبیر نامور
رہ جاتے تھے امام دو عالم ہلا کے سر
روداد تھی نظر میں مجسم حسین کی
آواز سن کے روتے تھے زینب کے بین کی
جب بیسویں کا دن بھی تڑپ کر ہوا تمام
ام البنین سے چونک کے کہنے لگے امام
دو دن سے آہ سب میرے بچے ہے بے طعام
فاقے میں ان پہ گزریگی کیا آج کی بھی شام
اچھا ہوں اب تو میں یہ عبس بے قرار ہیں
کھانا انہیں کھلاؤ کے سب روزہ دار ہیں
بولے حسین باپ سے ہاتھوں کو جوڑ کر
سب کھایں پھر جو آپ تناول کرے اگر
فرمایا رزق اٹھ گیا مجبور ہے پدر
پانی بھی اب گلے سے اترتا نہیں پسر
دعوت علی کی آج ہے گھر میں اللہ کے
روزہ کھلے گا ساتھ رسالت پناہ کے
چپ ہوگےء یہ کہکے شہنشاہِ کاینات
سمجھے یہ سب کے غش میں ہے شاہ نکوں صفات
جس وقت باقی رہ گیء کچھ کم گھڑی وہ رات
تیغ اجل نے قطعہ کیا رشتہء حیات
تڑکا تھا نور کا کہ سفر کر گےء علی
سب شیعہ بے امام ہوے مر گےء علی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.