Qaidi hai bemaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
دیکھ کر بے کسی بھتیجے کی
بولی رو کے زینب لاچار
اب نہ برساؤ پشت پر کوڑے
مر نہ جاے کہیں میرا بیمار
قیدی ہے بیمار قیدی ہے بیمار
ہر لمحہ کوڑوں کی اذیت
دروں کی افتاد
ہاے میرے بیمار کی غربت
کس سے کریں فریاد
سب رستے کانٹوں سے بھرے ہیں
چلنا ہے دشوار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
طوق گراں ہے گردن میں
اور پیروں میں زنجیر
سر ہے جھکاے شرم کے مارے
ابنِ شہ دلگیر
ساتھ حرم ہیں بے پردہ
اور شام کا ہے بازار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
صبر کیےء عیوب تمہارے
پاس کہاں تصویریں
دھوپ ہے ایسی جلنے لگی ہے
لوہے کی زنجیریں
سارے بدن میں پڑ گےء چھالے
ہاے میرا بیمار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
قید ستم میں موت جو آی
بنت شہ مضطر کو
خون بھرے کرتے میں یہ کہہ کر
دفن کیا خواہر کو
تجھکو کفن بھی دے نہیں سکتا
بھای ہے لاچار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
تھام کے بیڑی وقت سفر
رو رو کے کہا مولا نے
کیسے کٹے گا شام کا رستہ
یہ تو خدا ہی جانے
ایسی ہے کچھ ضعف و نقاہت
چلنا ہے دشوار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
ممکن ہے مولا نے کہا ہو
لاش جری کے پاس
دیکھ سکو تو دیکھ لو اٹھ کر
میرے چچا عباس
آپ کا بیٹا بن کے چلا ہے
کنبے کا سالار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
شرم مجھے کھاے جاتی ہے
کاش ابھی مر جاؤں
اس منظر کو دیکھ سکوں وہ
تاب کہاں سے لاؤں
بے پردہ ہے ماں بہنیں
اور شام کا ہے دربار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
شام کے جانب کیسے چلی تھی
پیغمبر کی آل
کیسے پڑے گا عامر اس کو
کیسے لکھوں میں بلال
آگے آگے نیزے پر تھا
فرق شہ ابرار
قیدی ہے بیمار۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.