Paon mein chaale
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Dilawar Hasan
کہتے تھے یہ عابد مضطر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
دشمن ہے رستے کا منظر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کتنی اذیت کتنی بے چینی ہے کہے کس سے
پڑتی ہے ہر گام پہ ٹھوکر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہے اور طوق ہے گردن میں
ساتھ میں ہے بے پردہ بھرا گھر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
پیر اٹھا کر رکھتے ہیں تو ہوتی ہے تکلیف
جلتی ریتی اور برابر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
کیسے رستہ چلتے ہیں سجاد زرا سوچو
دروں کی چوٹیں ہے بدن پر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
ایک بدن ہے دو تکلیفیں اور اکیلے ہم
درد کسی سے دل کے اندر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
کتنی پریشانی ہوتی ہے رستہ چلنے میں
چاروں طرف کانٹوں کی چادر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
کربوبلا سے شام کی راہیں کتنی مشکل ہے
دھوپ کی گرمی تپتے پتھر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
کیسے کرے سجاد کی کیفیت کو رقم عشرت
پیٹ پہ درے جسم ہے لاغر
پاؤں میں چھالے ہے پاؤں میں چھالے ہیں
کہتے تھے یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.