Mai chal bhi nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Farhan Ali Waris
میں چل بھی نہیں سکتا قیدی ہوں میں اماں
بازار شام جب آیا سجاد کا دل گھبرایا
رو رو کے پھپھی سے اپنی بیمار نے یہ فرمایا
آنکھوں سے لہو میری ایک پل بھی نہیں رکتا
میں چل بھی نہیں سکتا قیدی ہوں میں اماں
یہ خوں جو بہتا ہے اس آنکھ کا ماتم ہے
مجھے طوق اور بیڑی کے غم سے بھی سوا غم ہے
ماں بہنیں پھپھی آی بازار میں بے پردہ
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
بس میرے کلیجے پہ اس وقت قضا اتری
ناموسِ محمد کی جس وقت ردا اتری
بازار میں آیا ہے زنداں یہ میرا لاشہ
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
تطہیر کے پردہ دار امت نے پھراے ہیں
اس بی بی کو لوگوں نے دربار دکھاے ہیں
جس بی بی کا بابا نے چہرہ بھی نہیں دیکھا
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
جب اہلِ ستم ہم پر برسانے لگے پتھر
کیا جانے کیا گزری اس وقت میرے دل پر
جب ماں نے کہا مجھ سے تم کون ہو اے بیٹا
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
لاچار بہن میری سہمے ہوے رہتی تھی
معصوم سکینہ یہ ہر موڑ پہ کہتی تھی
کیا دفن ہوے ہونگے کربل میں میرے بابا
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
عباس کو محشر تک یہ درد رلاے گا
زینب کے کھلے سر کو وہ دیکھ نہ پاے گا
غیرت کے خدا کا سر نیزے پہ نہیں رکتا
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
اکبر کا حسیں چہرہ جو دیکھتے رہتے ہیں
سب کوفیوں شامی بھی رو رو کے یہ کہتے ہیں
اس حسن کے پیکر کی اب تک ہے ماں زندہ
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
ماں بہنیں کھلے سر ہے راہوں میں تماشائی
اولاد محمد کو تقدیر کہاں لای
پابند سلاسل ہوں کانٹوں سے بھرا رستہ
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
تیرا ہی قلم مولا تیری ہی زباں مولا
فرحان اور شوکت کی اوقات کہاں مولا
توحید بھی کرتی ہے ہر وقت تیرا گریہ
میں چل بھی نہیں سکتا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.