Zaqmi jo ran may qasim
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Mir Fateh Ali Afsar
زخمی جو رن میں قاسمِ گل پیرہن ہوا
پیدا شاہانہ جوڑے سے رنگ کفن ہوا
باغ جناں رسول کو بیت الحزن ہوا
اور فوج کیں میں شاد ہر اک تیغ زن ہوا
گل تھا کہ روند ڈالا ہے لشکر کے باغ کو
ہاں غازلو بجھا دو حسن کے چراغ کو
گھبرا گئے یہ سن کے صدا سرور انام
عباس نامور نے یہ اس دم کیا کلام
لو بھائی جنگ ہوچکی قصہ ہوا تمام
آیا سوے یتیم حسن موت کا پیام
ہمشکل مصطفیٰ کو بلالو پکارکے
مانگو دعا سروں سے عمامے اتار کے
یہ کہکے قبلہ رخ ہوے سلطان کاینات
درگاہ کبریا میں دعا کی اٹھا کے ہاتھ
اے خالقِ زمین و زمن رب پاک ذات
ان ظالموں کے ہاتھ سے قاسم کو دے نجات
تو حافظ جہاں ہے کریم الرحیم ہے
یا رب بچا اسے کہ یہ بچہ یتیم ہے
نکلا یہ سب کے منہ سے کہ ہاے ہاے حسن کے لال
زینب نے اٹھکے کھول دیے اپنے سر کے بال
سینے میں ہل گیا دل بانوے خوشخصال
چلای ماں گزر گیا کیا میرا نونہال
عابد کا تپ سے گرم بدن سرد ہوگیا
قاسم کے چھوٹے بھائی کا منہ زرد ہوگیا
چلای روکے زوجہء عباس نوجواں
یارب تو ہے یتیم حسن کا نگہبان
سن کر یہ غل دولہے کے بھی آنسوں ہوئے رواں
لیکر بلایں ساس پکاری کہ میری جاں
خالق کریگا رحم نہ آہ و بکا کرو
دولہا پہ آ بنی ہے میں صدقے دعا کرو
اس اضطراب میں جو سنا ساس کا سخن
زانوں سے سر اٹھا کے ہوی قبلہ رو دلہن
آہستہ کی یہ عرض اے رب ذوالمنن
دشمن پہ فتح یاب ہو لخت دل حسن
لڑنے گےء ہیں تشنہ دہن تیری راہ میں
رکھ میرے ابن ام کو تو اپنی پناہ میں
یا رب دلہن بنے مجھے گزری نہ ایک شب
دولہا جو مرگیا تو مجھے کیا کہینگے سب
اب تک تو شرم سے نہ ہلاے تھے میں نے لب
پر کیا کروں کہ اب ہے میری روح پر تعب
شبر کے آفتاب کا وقت غروب ہے
دولہا سے پہلے مجھکو اٹھالے تو خوب ہے
سہرے کے پھول بھی ابھی سوکھے نہیں ہیں آہ
جو آگیا پیا رنڈاپے کا یا اللہ
یہ عقد تھا کہ موت تھی ماتم تھا یا کہ بیاہ
بعد اسکے ہوگا خلق میں کیوں کر میرا نباہ
اٹھوں جہاں سے دلبر شبر کے سامنے
عورت کی موت خوب ہے شوہر کے سامنے
غش میں جھکا فرس پہ جو وہ غیرت و قمر
مارا کسی نے فرق پہ اک گرز تان کر
برچی لگی جو شیش کی ٹکڑے ہوا جگر
گرتے تھے اسپ سے کہ کمر پہ لگا تبر
تاریخ کی تیغ کھاکے پکارے امام کو
فریاد یا حسین بچالو غلام کو
جھپٹے جو شاہ فوج پہ چمکاکے ذوالفقار
بجلی گری یزید کے لشکر پہ ایک بار
اس غیض میں یمیں سے جو آے سوے یسار
بھاگے پھراکے گھوڑوں کی باگوں کو سب سوار
بھاگڑ میں خوں سے رن کی زمیں لال ہوگیء
دولہا کی لاش گھوڑوں سے پامال ہوگیء
دیکھا امام نے کہ رگڑتا ہے ایڑیاں
سوکھے ہوئے لبوں پہ ہے اینٹی ہوی زباں
داماد سے لپٹ گےء حضرت بصد فغاں
بے جاں ہوا حسین کے آگے وہ نیم جاں
جب لاش اٹھای شاہ نے تو استخوان تھے
سب چاند سے بدن پہ سموں کے نشان تھے
لاشہ ادھر سے لاے شہنشاہ کربلا
دوڑے ادھر سے پیٹتے ناموس مصطفیٰ
فضہ تھیں آگے آگے کھلے سر برہنہ پا
آی جو سحن میں تو یہ بیووءں کو دی صدا
ہٹ جائے جن سے دور کا ناتا ہے صاحبوں
دولہا دلہن کے لینے کو آتا ہے صاحبوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.