Haye sham ka bazaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Nadeem Sarwar
ہاے شام کا بازار
سجاد سے رونے کا سبب پوچھ رہا ہے
جو شام میں گزری ہے وہ سب پوچھ رہا ہے
ہاے شام کا بازار
وہ لاکھوں تماشائی بے پردہ پھپھی بہنیں
کیسے نہ لہو روے بیمار کی پھر آنکھیں
اس غم کی اذیت نے اسے مار دیا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
کس طرح کرار آے بیمار کو اے لوگوں
سر نیزوں پہ پیاروں کے آتے ہے نظر جس کو
بے جرم مسافر کی یہ کیسی سزا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
آنکھوں سے ہے خوں جاری غم خوار ہے بیماری
زنجیر ہے پیروں میں اور طوق بھی ہے بھاری
جلتی ہے زمین ساری اور گرم ہوا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
جاگیر نہیں مانگی زنجیر نہیں بدلی
ساے میں نہیں بیٹھا پوشاک نہیں بدلی
ماں بہنوں کی خاطر وہ ردا مانگ رہا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
زنداں کے مصایب بھی ہر وقت رلاتا ہے
اشکوں کو مگر اپنے زینب سے چھپاتے ہیں
مر جائے نہ زینب یہ کہیں سوچ رہا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
زنداں سے رہا ہو کے زنداں میں ہے سجاد
ایک ننھی سی تربت جو وہاں کرتی ہے فریاد
مر کر بھی رہوں قید میں کیا میری خطا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
یہ زخم بھی سجاد کو جینے نہیں دیتا
زخموں سے سکینہ کے جو چپکا رہا کرتہ
وہ خوں بھرا کرتہ ہی کفن اس کا بنا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
بازار میں دربار میں زندان میں روے
چالیس برس موت کے ارمان میں روے
ریحان میرا مولا تڑپتا ہی رہا ہے
ہاے شام کا بازار۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.