Haye mere bemaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Sachay Bhai
ہائے میرا بیمار امام
بعدِ قتلِ شاہِ انعام
ہائے یہ غربت کی وہ شام
غش میں پڑا ہے تشنہ کام
ہو جائے غم سے نہ تمام
ہائے میرا بیمار۔۔۔
دُرے ہیں تعزیریں ہیں
پاؤں میں زنجیریں ہیں
ہاتھ میں تقدیریں ہیں
چلنا ہے مشکل دو گام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
زخم لہو برساتا ہے
دل ہے کہ چھلکا جاتا ہے
دُرے کھاتا جاتا ہے
لمحہ لمحہ گام بہ گام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
بُغض و حسد سے کینوں سے
لو دیتے ہوئے سینوں سے
کلمہ گو بے دینوں سے
چلتا ہوا بازارِ شام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
ماؤں بہنوں کے چہرے
بالوں کے پیچھے ہیں چھُپے
ہاتھ بندھے ہیں سر ہیں کُھلے
سامنے ہے ایک مجمعِ عام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
مجمع سارا ہنستا ہے
دل کا زہر اُگلتا ہے
خون کے آنسُو روتا ہے
سر کو جُھکائے تشنہ کام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
کلمہ گویوں کا مجمع
اور پیغمبر کا کُنبہ
ہائے سر ننگے ہے کھڑا
آج سرے دربارِ شام
ہائے میرابیمار ۔۔۔
سیسہ دل پہ لگتا ہے
ایک رسن میں بستا ہے
شمر ستمگر ہنستا ہے
لے لے کر ایک ایک کا نام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
اُمِ رباب یہ لیلٰی ہے
یہ کلثوم یہ کبرٰی ہے
یہ معصوم سکینہ ہے
اور ہے زینب اس کا نام
ہائے میرا بیمار ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.