Chehlum jo karbala may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Alamdar Razvi
چہلم جو کربلا میں بہتر ہوچکا
پیوند بے کسوں کے تن و سر کا ہو چکا
اور فاتحہ حسین کے لشکر کا ہو چکا
قبروں پہ شور آل پیمبر کا ہو چکا
ماتم میں تین روز رہے شور و شین سے
روے لپٹ لپٹ کے مزار حسین سے
مثل چراغ گور گریباں پہ دل جلاے
پھولوں کے ساتھ قبروں پہ لختِ جگر چڑھاے
پیاروں کی بودو باش کے ساماں جو یاد آے
بے ساختہ پکاری کلیجہ پکڑ کے ہاے
ہے ہے وہ پردہ دار ہمارے کدھر گئے
بے پردہ ہوکے آل نبی دربدر گےء
مقتل کے آس پاس یہ بیووءں کی تھی فغاں
زینب جبیں لحد پہ دھرے کرتی تھی بیاں
اے میرے کربلائی برادر حسین جاں
ہمشیر تین دن سے تمہاری ہے میہماں
اللہ میری بات بھی پوچھی نہ آپ نے
زنداں کی واردات بھی پوچھی نہ آپ نے
حضرت کی قبر ہل گیء زینب کے بین سے
آکر کہا بشیر نے ابن حسین سے
شہزادے جاں بلب ہے پھوپی شورو شین سے
چلےء وطن کو قبر شہ مشرقین سے
عابد نے پوچھا کیوں پھوپی اماں قبول ہے
وہ بولی اختیار کیا ہاں سب قبول ہے
راضی ہوں جو رضاے امام جلیل ہے
پر قابل ملاحظہ بازو کا نیل ہے
نے کوئی داد رس ہے نہ کوئی کفیل ہے
بھائی بغیر آپکے زینب ذلیل ہے
پشت و پناہ اٹھ گیا بے خانماں ہوی
دیکھو یہ پشت قابل نوکِ سناں ہوی
مرجائے سب یتیموں کے سر پر رہوں تو میں
بچپن میں انکی قید کی ایذا سہوں تو میں
بہلانے کو تمہاری کہانی کہوں تو میں
ماں ہوں تو میں پھوپی ہو تو میں باپ ہوں تو میں
انکا بھی داغ آج ملے یا کہ کل ملے
ایسے نہیں نصیب کے خدمت کا پھل ملے
میں جانتی تھی شہر بسا ہوگا بھائی کا
ہوگا ہجوم قبر پہ ساری خدائی کا
چہلم کرونگی دھوم سے میں کربلائی کا
پرساں بھی یاں کوئی نہیں زہرا کی جای کا
منہ ڈھانپنے کو آپ ہی پلہ بھی لیتی ہوں
اور اپنے دل کو آپ ہی پرسہ بھی دیتی ہوں
چہلم تو کرچکی میں دل افگار یا حسین
اب روضہ کس طرح سے ہو تیار یا حسین
بیٹا بھی اور بہن بھی ہے نادار یا حسین
آخر کبھی تو آیںگے زوار یا حسین
تکیہ ہے کارسازیء پروردگار پر
اس دم تو سایباں بھی نہیں ہے مزار پر
ہونے لگا سوار رسالہ بشیر کا
ڈنکا بجا حرم کے وداعِ اخیر کا
خیمہ اٹھا لحد سے شہ بے نظیر کا
اور سب تبرکات جناب امیر کا
تربت کے گرد اونٹ برابر کھڑے ہوئے
رخصت کو جمع قبر پہ چھوٹے بڑے ہوے
زینب پکاری کوچ کا سامان ہوگیا
پھر شہر میرے بھائی کا ویران ہوگیا
اور مقبرہ حسین کا سنسان ہوگیا
ہو کا مقام قتل کا میدان ہوگیا
آی مسافروں کو میرے وہ زمیں پسند
دنیا میں جس زمین کو بستی نہیں پسند
اے کربلائے سرور دلگیر الوداع
اے قتل گاہ حضرت شبیر الوداع
اے قبر ابنِ صاحب تطہیر الوداع
اے بھائی جان جاتی ہے ہمشیر الوداع
کیا بے نصیب ہے یہ نواسی رسول کی
تم نے مجاوری نہ ہماری قبول کی
بھیا اٹھو کجاوے میں مجھ کو تمہیں بٹھاؤ
بھیا میں بے نقاب ہوں رہگیروں کو ہٹاؤ
روکیں قنات اکبر و عباس کو بلاؤ
خالی ہے گود بھابھی کی اصغر کو لیتے آؤ
سردار سارے قافلے کے آگے ہوتے ہیں
تیار کارواں ہوا اور آپ سوتے ہیں
کب سے تمہیں پکار رہی ہے یہ خستہ تن
ہاے ہاے جواب بھی نہیں دیتے شہ زمن
بھیا گلے لگا لو تو جاؤں سوے وطن
آی ندا سدھارو خدا حافظ اے بہن
صغرا کو میری سمت سے بھی پیار کیجیو
ہوگا ثواب خاطر بیمار کیجیو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.