Ek sitam sajjad par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Shadman Raza
ہاے سجاد ہاے ہاے سجاد
ایک ستم سجاد پر ایسا ہوا
جب تلک جیتا رہا روتا رہا
وہ ستم تھا بے ردائی شام میں
سر کھلے زینب جو آی شام میں
طوق دیتا تھا دہائی شام میں
آنکھ سے خون جگر بہتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
آسماں روتا تھا روتی تھی زمیں
قلب تھے زخمی تو زخمی تھی جبیں
بی بیوں کے نام لیتے تھے لعیں
تھام کر دل سارباں سنتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
سنگ دل أہل جفا کے سامنے
کیا کوئی جاتا رداییں مانگنے
درد و غم کتنے دیےء ہیں شام نے
حق قدم پر ایک غم ملتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
آسماں والے زمیں پر آ گےء
غم کے بادل چار جانب چھا گےء
روتے روتے قلب و جاں پتھرا گےء
دل کو ماحول بھی دستہ رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
جس کو سورج نے نہ دیکھا ہو کبھی
ہاے اس بی بی کی چادر چھن گیء
موت کا ساماں تھی بس یہ گھڑی
امتحاں دینے کو وہ جیتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
بیڑیوں کے زخم سارے بھول کر
نوحہ کرتا تھا نبی کی آل پر
اور کبھی روتا تھا سر کو پیٹ کر
خون دل بھی آنکھ سے بہتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
زندگی تھی ہر قدم پر ایک سزا
سانس کرتی تھی حرم پر مرثیہ
بین کرنا بھی وہاں پر جرم تھا
ہاں مگر یہ جرم وہ کرتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
کیا لکھے روادار مظہر عابدی
لکھ نہیں سکتا وہ صدمے کوئی بھی
بن گیء نوحہ مگر یہ بات ہی
جب تلک جیتا رہا روتا رہا
ایک ستم سجاد پر۔۔۔
جب تلک جیتا رہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.