Chala jab khafile
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Tableegh e Imamia
چلا جب قافلے کو لے کے سوئے قوفہ و شام
میرا مظلوم امام
سر کُھلے زینب ِ مُضطر تھی اور تھا مجمعِ عام
میرا مظلوم امام
سر جھکائے ہوئے یوں چلتے رہے شاہِ اُمم
اور بڑھ جاتا تھا یہ دیکھ کہ بیمار کا غم
بے ردا تھی پھوپھی اور شام کا بازارِ عام
میرا مظلوم امام
چلا جب قافلے ۔۔۔
پائوں میں بیڑیاں تھیں طوق گلے میں تھا پڑا
پشتے بیمار کے ہاتھوں پہ عدو کے دُرا
غش کئی بار سفر میں ہوئے بیمار امام
میرا مظلوم امام
چلا جب قافلے ۔۔۔
رو رو کہتی تھی سکینہ پھوپھی اب کیا ہو گا
جُھولا جلنے لگا بھائی بھی میرا رن کو گیا
آگ خیموں میںلگی جل گیا اسباب تمام
میرا مظلوم امام
چلا جب قافلے ۔۔۔
لاشِ قاسم کو سمیٹا شاہِ دیں نے جس دم
مہندی ہاتھوں پہ لگی دیکھ کے روتے تھے حرم
رنگ یہ سہرے کی ملی خاک میں کیسا تھا ستم
میرا مظلوم امام
چلا جب قافلے ۔۔۔
خون ٹپکتا ہے حسن نوکِ قلم سے اب تو
دل پھٹا جاتا ہے اس سوزِ آلم سے اب تو
گِریہ کرتے ہیں ملک رو کہ یہی صُبح و شام
میرا مظلوم امام
چلا جب قافلے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.