Bemaar dhoop may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
کیسے چلے حسین کا بیمار دھوپ میں
آؤ مدد کو حیدر کرّار دھوپ میں
رستہ بڑا طویل ہے زخمی ہیں ایڑیاں
زنجیر اتنی گرم ہے جلتی ہیں پنڈلیاں
جھلسا رہا ہے طوقِ گراں بار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
چھڑکاؤ کرتے جاتے ہیں آنسوں حسین کے
پیروں کو کچھ سکون ملے نورِ عین کے
بے سایباں ہے قافلہ سالار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
نہ محرموں کی بھیڑ ہے چہرہ نڈھال ہے
پھوپھیوں کی بے ردائی کا کتنا خیال ہے
آتا ہے غش مریض کو ہر بار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
زخمی ہے سارا جسم غموں کی ستائ کا
دل کانپ کانپ جاتا ہے سینے میں بھای کا
درے لعیں سکینہ کو مت مار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
عابد کے پاؤں راہ میں چھالوں سے بھر گےء
جلتی زمیں نے ساتھ نہ چھوڑا جدھر گےء
ایسا ہوا نصیب گرفتار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
کم کرلے تو ہی اپنی تمازت کو آفتاب
دینا پڑے گا حشر میں پیش خدا جواب
ہے ساتھ بنت احمد مختار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
نیزے پہ سر حسین کا اس غم سے ہے اداس
کوئی نہیں ہے عابد مضطر کے آس پاس
اک غمزدہ پھپھی ہے مددگار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
مشکل بڑی ہے عامر و اختر مریض پر
ہنستے ہیں راستوں میں ستمگر مریض پر
ہے اب تو سانس لینا بھی دشوار دھوپ میں
کیسے چلے حسین کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.