Bediyon wala bhaiya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mesum Abbas
ہاے بیمار میرا بیڑیوں والا بھیا
ہاں یتیمی میں میرے ناز اٹھاتا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
راہ پر خار میں کچھ مجھکو اذیت نہ ملی
سہلی تکلیف تو لیکن میری گردن نہ کھنچی
بس یہی سوچ کے پھر سر نہ اٹھایا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
پیر جلتے تھے میرے بھائی کے ہر گام مگر
دھوپ میں جلتی زمیں پر میں قدم رکھتی جدھر
اپنے ساے سے وہاں سایہ بناتا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
جب طمانچے مجھے لگتے تو وہ رک جاتا وہی
چھوڑ کر مجھکو اسے درے لگاتے تھے لعیں
درے خود کھا کے مجھے ان سے بچاتا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
سینۂ شاہ پہ سونے کی صدا عادی تھی
زخمی رخسار زمیں پر نہیں رکھ پاتی تھی
ہاے زخمی سینے پہ مجھے اپنے سلاتا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
قبر کی طرح سے تاریک تھا زندان جفا
مجھکو زنداں کے اندھیروں سے جو ڈر لگتا تھا
اپنے اشکوں سے وہاں کرتا اجالا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
بات بس میثم و سلمان یہ احساس کی ہے
یوں دعا کرتی تھی شہزادی رہائی کے لیےء
کیسے ہاتھوں سے بندھے قبر بناتا بھیا
ہاے بیمار میرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.