Bediyan roti rahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
بیڑیاں روتی رہی عابد بیمار کے ساتھ
خون بہتا رہا زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
خار چبھتے رہے پاؤں میں قدم جلتے رہے
درے کھاتے رہے سجاد حزیں چلتے رہے
بیٹھ پاے نہ کبھی ساے میں دیوار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
طوقِ پر خار سے زخمی تھا گلوے اطہر
خون رستا تھا گلے سے جو ہلاتے تھے سر
ایسا جکڑا تھا گلا طوقِ گراں بار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
سر جھکائے ہیں پھپھی اماں سے ہیں شرمندہ
چادریں لاکے اڑھا بھی نہیں سکتے مولا
روبرو کیسے ہو وہ زینب لاچار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
ہاے وہ عطرت شبیر کا پھرنا در در
عرش والوں نے جنہیں دیکھا نہیں بے چادر
بے ردا کیسے گیء فوج ستمگار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
ہاے عابد پہ جوانی میں بڑھاپا آیا
خون آنکھوں سے بہاتا رہا میرا مولا
قید ہو کر چلی ماں بہنیں جب اغیار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
شام کے بعد بھی جب شام کوئی کہتا تھا
مولا سجاد کی آنکھوں سے لہو بہتا تھا
غم ہے کچھ ایسے جڑے شام کے بازار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
آکے مجلس میں حسن سر کو جھکائے رکھنا
روکے سجاد کو شبیر کا پرسہ دینا
بیٹھے ہونگے وہ کسی شہ کے عزادار کے ساتھ
بیڑیاں روتی رہی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.